پارلیمانی خصوصی کمیٹی کے دسویں اجلاس میں بھی آئینی ترمیم کے مسودے پر اتفاق نہ ہو سکا

اسلام آباد (آن لائن)پارلیمانی خصوصی کمیٹی کے دسویں اجلاس میں بھی آئینی ترمیم کے مسودے پر اتفاق نہ ہو سکا تاہم مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے جے یو آئی (ف)کا آئینی بنچ کے قیام متعلق مطالبہ تسلیم کرلیا ،مولانا فضل الرحمن اس مسودے پر پی ٹی آئی کے ساتھ ملاقات کریں گے ،پارلیمانی خصوصی کمیٹی کا اجلاس آج جمعہ کو دوبارہ ہوگا ۔سید خورشید احمد کی زیر صدارت پارلیمانی خصوصی کمیٹی کا اجلاس ہوا ،جس میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب،بیرسٹر گوہر ،عرفان صدیقی ،امین الحق ،اعجاز الحق ،شیری رحمن ،خالد مگسی ،احمد رضا خان اور دیگر اراکین نے شرکت کی ،اجلاس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے آئینی ترامیم سے متعلق مسودوں کا جائزہ لیا گیا تاہم حتمی فیصلہ آج بھی نہیں ہو سکا ۔ذرائع کے مطابق 26ویں آئینی ترمیم پر بڑا بریک تھروسامنے آیا ہے

،مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی آئینی عدالتوں کے قیام سے پیچھے ہٹ گئیں،حکومتی اتحادی جماعتیں اور جے یو آئی میں آئینی بنچ کی تشکیل پر اتفاق ہوگیا،آئینی عدالت کے معاملے 26ویں آئینی ترمیم ڈراپ کردیا گیا،حکومت اور جے یو آئی کا مشترکہ مسودہ پر پی ٹی آئی سے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے،مولانا فضل الرحمان حتمی مسودہ پی ٹی آئی قیادت کیساتھ شیئر کرینگے۔بعد ازاں شیری رحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف نے آج مسودہ پیش نہیں کیا،تحریک انصاف نے کہا ہے کہ وہ اپوزیشن کی جماعتوں سے آج شام مشاورت کرنا چاہتے ہیں،پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کا ڈرافٹ مکمل ہوچکا ہے، ایک دو دن کی بات ہے مسودہ خود دیکھ لیجئے گا،آئینی مسودے کی تیاری کے لیے بہت محنت ہوئی ہے، سب کی گزارشات اور سفارشات سن کر آگے لے کر چلیں گے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس کی پہل کی ہے اور ہم اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے سیاسی فورمز استعمال کر رہے ہیں۔

Comments are closed.