پی ٹی آئی کے پرامن احتجاج پر سندھ حکومت کی مجرمانہ پولیس گردی اور غیر آئینی اقدام ہے،رہنما پی ٹی آئی

کراچی(آن لائن)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کراچی کے صدر راجہ اظہر، جنرل سیکریٹری ارسلان خالد اور کراچی کابینہ کے اراکین کی جانب سے 18 اکتوبر کو ایمپریس مارکیٹ پر عمران خان کی غیر قانونی حراست اور غیر آئینی ترامیم کے خلاف ایک پرامن احتجاج کی کال دی گئی تھی۔ اس احتجاج میں پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی، ڈسٹرکٹ اور ٹاوٴن کے صدور و کابینہ، بلدیاتی نمائندگان، خواتین، اقلیتوں، لیبر، لیگل ٹیم، یوتھ ونگز اور عوام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تاہم، سندھ حکومت اور اس کی کٹھ پتلی پولیس نے اپنی متعصبانہ اور غیر آئینی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے، ایک مرتبہ پھر بزدلانہ طریقے سے پرامن مظاہرین پر آنسو گیس کا بے دریغ استعمال شروع کر دیا۔ اس غیر انسانی اقدام سے خواتین، بچے، بزرگ اور معصوم شہری بری طرح متاثر ہوئے۔راجہ اظہر نے سندھ پولیس کی اس مجرمانہ کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ سندھ پولیس اپنی غنڈہ گردی سے باز رہے، مگر اس کے باوجود ہمارے منتخب صوبائی نمائندگان،بشمول ریحان بندوکڑا، اقلیتی ونگ کے صدر سلیمان لطیف، فارم 45 کے ایم پی اے فرحان غوری، یوتھ ونگ کے میراج شاہ اور دیگر عہدیداران کو بلا جواز گرفتار کیا گیا۔

گزشتہ رات سے ہی سندھ حکومت نے پی ٹی آئی کارکنان کے گھروں پر چھاپے مار کر متعدد افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ ایک طرف یہ نااہل حکومت جمہوریت کی دعوے دار بنتی ہے، اور دوسری طرف نہتے اور پرامن کارکنان کو بلاوجہ تشدد کا نشانہ بنا کر اپنی فسطائیت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ ہم سندھ پولیس کی اس وحشیانہ بربریت اور ریاستی جبر کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔راجہ اظہر نے وزیراعلیٰ سندھ کو کڑی تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی وقت ہے ہوش کے ناخن لو، ورنہ یہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدامات تمہارے اقتدار کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوں گے۔ پیپلز پارٹی نے اپنی من مانی کرتے ہوئے دفعہ 144 کا نفاذ ہمارے احتجاج سے محض چند گھنٹے قبل کر دیا، جبکہ ہم دو دن پہلے احتجاج کی کال دے چکے تھے۔ حیران کن طور پر، پیپلز پارٹی خود دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے پروگرامز کر رہی ہے، اور ان کے لیے کوئی قانونی قدغن نہیں۔ یہ دوغلے معیارات اور سیاسی منافقت ناقابل برداشت ہیں، اور ہم ان کے خلاف ہر محاذ پر لڑیں گے۔جنرل سیکریٹری ارسلان خالد نے سندھ حکومت کے اس فسطائی رویے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان کو ظلم و ستم سے دبایا نہیں جا سکتا۔ ہمارا احتجاج پرامن تھا، جو ہمارا جمہوری اور آئینی حق ہے، مگر سندھ حکومت کی جانب سے جو ریاستی دہشتگردی کی گئی،اس کی مثال نہیں ملتی۔ ہم عمران خان کی رہائی کے لیے اپنی تحریک جاری رکھیں گے، اور کوئی بھی طاقت ہماری آواز کو دبا نہیں سکتی۔ ہم اپنے تمام گرفتار کارکنان کی فوری رہائی کے لیے قانونی ٹیم کو بھی ہدایات جاری کر چکے ہیں، اور اس جبر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے تمام دروازے کھول رہے ہیں۔

Comments are closed.