اسلام آباد (آن لائن) وزیر اطلاعات و نشریا ت عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ مجوزہ آئینی ترامیم پر ہمارے پاس نمبر پورے ہیں اسکے باوجود سیاسی جماعتوں سے مشاورت جاری ہے ۔ بلاول بھٹو زرداری نے بھی اس معاملے پر مکمل اتفاق رائے کے بعد آگے بڑھنے کے لئے کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے انہوں نے کہا کہ ہم جمہوری سوچ کے لوگ ہیں، ہماری کوشش ہے کہ تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اتفاق رائے پیدا ہو کیونکہ جمہوری معاشروں میں کوشش یہی ہوتی ہے کہ مشاورت اور اتفاق رائے پیدا کرنے میں کردار ادا کیا جائے۔ انہوں نے علی امین گنداپور پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے بانی پی ٹی آئی سے غداری نہ کرنے کا کہا، لیکن ملک سے غداری کے لیے کچھ نہ کہا،آئی ایم کو خط لکھ دیا، شہدا کے مجسموں کو مسمار کردیا،
اس پر ان کو کوئی مسئلہ نہیں ہے، بس ایک پیغام جاری کردیا کہ جو بانی پی ٹی آئی سے غداری کرے گا ہم جلاوٴ گھیراوٴ کریں گے۔ انہوں نے کہا خیبر پختونخوا کے اندر رولز تبدیل کر کے پولیس افسران کی پوسٹنگ اور ٹرانسفر کے اختیارات آئی جی سے لے کر وزیراعلیٰ نے اپنے پاس رکھ لئے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ پولیس سے سیاسی مقاصد حاصل کئے جائیں۔ یہ لوگوں کو سیاسی طور پر اپنے کنٹرول میں لینا چاہتے تھے۔ انہوں نے پنجاب سے بھی لوگوں کو بند کیا اور الزام اداروں پر لگایا۔ انہوں نے وفاق کے خلاف سرکاری وسائل کا استعمال کیا۔ انہوں نے کہا جب یہ دوسروں پر الزام لگاتے ہیں تو اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے کہ ان کا اپنا طرز عمل کیا ہے۔ انہوں نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی سے غدداری پر جلاو گھیراو اور گھر کاروبار تباہ کرنے کی دھمکیاں دیں۔ ملک سے غدداری پر انہیں کوئی ایشو نہیں۔ انھیں یہ نہیں معلوم سب سے پہلے ہمارا ملک ہے، سیاسی لیڈر اور سیاسی جماعتیں بعد میں ہیں۔ اگر کسی رکن پارلیمنٹ پر حملے کئے تو ریاست ایکشن لے گی۔
جبکہ ریاست کی عملداری ہر صورت قائم رہے گی۔الزام تراشی کی سیاست کر کے یہ سیاسی فیس سیونگ چاہتے ہیں، انہوں نے کہا سیاسی مشاورت کا عمل جاری ہے ۔ آئینی ترامیم پر مکمل اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کا مشاورت کے عمل میں حصہ لینا جمہوریت کا حسن ہے۔ وزیراعظم سے بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات ہوئی، بلاول بھٹو زرداری کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی۔پی ٹی آئی کے وفد نے اڈیالہ جیل میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی سے بھی ملاقات کرلی ہے۔ نمبرز پورے ہونے کے باوجود ہم نے مشاورتی عمل کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا آئینی ترامیم پر ہمارا فرض ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو آن بورڈ لیا جائے اور ایک ایک شق پر سیر حاصل گفتگو کر کے اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ مذاکرات کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ اس موقع پر ن لیگ کے رہنما حنیف عباسی نے کہا جو بھی ہو رہا ہے اس ملک و قوم کے لئے بہتر ہو رہا ہے ۔
آئینی ترمیم کے لئے جس جس نے موقع مانگا اس کو دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا لاکھوں کی تعداد میں مقدمات التوا ہیں ہمیں ان کی طرف دھیان دینا ہے ۔ پی ٹی آئی والوں کو پتہ ہے جب تک ملک میں انتشار رہے گا ان کی سیاست رہے گی ۔ یہ پاکستان کے ادروں کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ انکی سوشل میڈیا بریگیڈ ملکی تشخص کے ساتھ کھیل رہی ہے ۔ تا ہم ملک میں انتشار کی سیاست کو پنپنے نہیں دیں گے۔ شہدا کی قربانیوں کو کسی کو مذاق نہیں بنانے دیں گے ۔ انہوں نے کہا مسلم لیگ نے فسطائیت کے دور میں سب سے زیادہ سزائیں بھگتیں لیکن ملک کی سالمیت کے خلاف ایک لفظ تک نہیں کہا ۔
Comments are closed.