ہماری مشاورت بانی پی ٹی آئی سے مکمل نہیں ہوسکی، بانی پی ٹی آئی نے مولانا کے ساتھ ہماری بات چیت کو مثبت انداز میں لیا،بیرسٹر گوہر

اسلام آباد(آن لائن )چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ہماری مشاورت بانی پی ٹی آئی سے مکمل نہیں ہوسکی، بانی پی ٹی آئی نے مولانا کے ساتھ ہماری بات چیت کو مثبت انداز میں لیا، بانی پی ٹی آئی آئینی ترمیم پر ہونے والی پیشرفت سے قطعی لاعلم تھے، بانی پی ٹی آئی نے مولانا فضل الرحمان کے کردار کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کی تعریف کی ہے۔جتنی بھی مشاورت ہوئی اتنا کہا کہ ہم مولانا سے مشاورت جاری رکھیں، آئینی ترمیم پر بانی پی ٹی آئی نے کہا سنجیدہ معاملہ ہے۔بانی پی ٹی آئی عمران سے 45 منٹ ملاقات ہوئی ہے اور وہ خیریت سے ہیں۔عمران خان نے امید ظاہر ہے کہ مولانا عدلیہ کی ازادی کیلئے ہمارے ساتھ کھڑے ہوں گے

، اسلام اباد میں پی ٹی ائی رہنماوٴں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے 45 منٹ ملاقات ہوئی ہے اور وہ خیریت سے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اج پہلی مرتبہ جیل جانے کے بعد عمران خان نے اپنے جیل کی حالت کا ذکر کیا ہے، 5 دن تک ان کے سیل میں بجلی نہیں تھی، گزشتہ دو ہفتے سے انہیں کوئی اخبار اور ٹی وی کی سہولت فراہم نہیں کی گئی، وہ صرف ڈھائی گھنٹے اپنے سیل سے باہر اتے ہیں۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عمران خان پر امید ہیں اور قوم کے لیے ان کا پیغام بھی یہی ہے کہ اگر 100 سال بھی اس جیل میں گزارنا پڑیں تو گزاروں گا، ملک میں ائین اور قانون کے بالادستی کے لیے لڑتا رہوں گا اور عوام کو مایوس نہیں کروں گا۔چیئرمین پی ٹی ائی نے کہا ہم عمران خان کے ساتھ جیل میں نارواسلوک کی پرزور مذمت کرتے ہیں، بانی پی ٹی ائی کے حقوق کا خیال رکھا جائے اور انہیں وہ سہولیات مہیا کی جائیں جس کے وہ حقدار ہیں، ان کو قید تنہائی میں اور چھوٹے سیل میں رکھنا ائینی و قانونی حقوق کی سخت خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے اپنی بہنوں کی گرفتار پر افسوس کا اظہار کیا ہے لیکن بانی پی ٹی ائی نے کہا ہے کہ وہ اور ان کا پورا خاندان اس جدوجہد کے لیے قربانی دیں گے، انہوں نے پوری قوم سے پرامن رہنے کی درخواست کی ۔یرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات کے دوران ہم نے اپنی اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان پیش رفت سے انہیں ا?گاہ کیا، عمران خان نے اس بات چیت کو مثبت انداز میں لیا اور تعریف کی کہ انشااللہ خان صاحب نے مولانا کی تعریف کی اور کہا کہ وہ ہر سختی میں ہمارے ساتھ عدلیہ کی ازادی کے لیے کھڑے ہوں گے۔

Comments are closed.