اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں بشریٰ بی بی کی درخواست ضمانت منظورکرلی

بشریٰ بی بی کی دس لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی گئی

اسلام آباد( آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں بشریٰ بی بی کی درخواست ضمانت منظورکرلی، بشریٰ بی بی کی دس لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ضمانت منظور کی۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ یہ تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طرح کا کیس ہے،اس کیس میں بھی شوہر کو بیوی کے کئے کا ذمہ دارٹھہرایا گیا تھا، آذربائیجان جا کر دیکھیں،دنیا کے صدور کو جو گفٹ ملتے ہیں وہ ان کی تصاویر کیساتھ رکھتے ہیں،یاسر عرفات کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے ماڈل کا تحفہ بھی وہاں ہے،وہاں جانا ہوا، مجھے وہاں پر محترمہ بینظیر بھٹو کی تصویر نظر آئی،بدقسمتی سے کسی اور کی کوئی تصویر نظر نہیں آئی جبکہ جواب میں ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہاکہ یہ کیس اس سے تھوڑا مختلف ہے۔بدھ کو توشہ خانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی،بشریٰ بی بی کے وکیل نے گزشتہ روز اپنے دلائل مکمل کر لئے تھے،ایف آئی اے پراسیکیوٹر عمیرمجید عدالت میں پیش ہوئے اور دلائل کا آغاز کردیا۔جسٹس گل حسن نے کہاکہ اگر اپ کو یا ڈپٹی اٹارنی جنرل کو موقع ملے تو آذربائیجان جا کر دیکھیں،دنیا کے صدور کو جو گفٹ ملتے ہیں وہ ان کی تصاویر کیساتھ رکھتے ہیں،یاسر عرفات کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے ماڈل کا تحفہ بھی وہاں ہے

،وہاں جانا ہوا، مجھے وہاں پر محترمہ بینظیر بھٹو کی تصویر نظر آئی،بدقسمتی سے کسی اور کی کوئی تصویر نظر نہیں آئی۔ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہاکہ ریاست کو ملنے والا گفٹ جمع کرانااور ڈیکلیئر کرنا ہوتا ہے،قانونی طریقے سے خریدے جانے تک گفٹ ریاست کی ملکیت ہوتا ہے،پروسیجر کے تحت قیمت کا تخمینہ لگنے کے بعد 4ماہ میں تحفہ خریدا جا سکتا ہے،کیس ایسے گفٹ سے متعلق ہے جو جمع ہی نہیں کرایا گیا، ریاست کا ملکیتی تحفہ خریدنے سے قبل اپنے پاس نہیں رکھا جا سکتا، جسٹس حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ بشریٰ بی بی نے تحائف جمع نہیں کرائے تو بانی پی ٹی آئی کو ملزم کیوں بنایا گیا؟ایف ا?ئی اے پراسیکیوٹر عمیر مجید نے کہاکہ پبلک آفس ہولڈر بانی پی ٹی آئی تھے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہاکہ یہ تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طرح کا کیس ہے،اس کیس میں بھی شوہر کو بیوی کے کئے کا ذمہ دارٹھہرایا گیا تھا،ایف ا?ئی اے پراسیکیوٹر نے کہاکہ یہ کیس اس سے تھوڑا مختلف ہے،جسٹس گل حسن نے کہا کہ توشہ خانہ کی تحفے کی قیمت کا درست تخمینہ?اکشن کے ذریعے ہی لگایا جا سکتا ہے،آپ کسی شاپ سے گھڑی لے کر نکلیں، پھر بعد میں اس کی قیمت لگوائیں تو کیا قیمت لگے گی؟جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ یہ تو جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی طرح کا کیس ہے، اْس کیس میں بھی شوہر کو بیوی کے کیے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا جس پر عمر مجید نے کہا کہ یہ کیس اْس سے تھوڑا مختلف ہے، ریاست کو ملنے والا گفٹ جمع کرانا اور ڈیکلیئر کرنا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ گفٹ ریاست کی ملکیت ہوتا ہے جب تک اسے قانونی طریقے سے خرید نہ لیا جائے، ایک پروسیجر دیا گیا ہے جس کے تحت قیمت کا تخمینہ لگنے کے بعد 4 ماہ میں تحفہ خریدا جا سکتا ہے

، یہ کیس ایسے گفٹ سے متعلق ہے جو جمع ہی نہیں کرایا گیا اور اس اقدام کے نتائج ہیں، ریاست کے ملکیتی تحفے کو خریدنے سے قبل اپنے پاس نہیں رکھا جا سکتا۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ توشہ خانہ کی تحفے کی قیمت کا درست تخمینہ آکشن کے ذریعے ہی لگایا جا سکتا ہے، آپ کسی شاپ سے گھڑی لے کر نکلیں اور پھر بعد میں اس کی قیمت لگوائیں تو کیا قیمت لگے گی۔بشریٰ بی بی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ کیس ہے کہ قیمت کا تعین کرنے والے پرائیویٹ شخص سے قیمت کم لگوائی گئی، قیمت کا تعین کرنے والا صہیب عباسی اب وعدہ معاف گواہ بن چکا ہے۔سلمان صفدر نے کہا کہ پھر اس کے بعد کسٹمز کے افسران نے قیمت کا تعین کیا، یہ سب لوگ گواہ ہیں کسی کو ملزم نہیں بنایا گیا، کابینہ ڈویڑن سے کسی شخص کو ملزم نہیں بنایا گیا، کابینہ ڈویڑن سے کسی کو شاملِ تفتیش تک نہیں کیا گیا۔بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا کوئی براہ راست رابطہ نہیں تھا، پراسیکیوشن کے اپنے مطابق یہ تمام کام انعام اللہ شاہ کرتا ہے لیکن وہ ملزم نہیں، صہیب عباسی جو درحقیقت قومی خزانے کا نقصان پہنچا رہا ہے وہ وعدہ معاف گواہ ہے۔بشریٰ بی بی کے وکیل نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے، کوئی عدالتی نظیر موجود نہیں، عمران خان کا بازو مروڑنے کیلئے بشریٰ بی بی کو قید رکھا گیا ہے، بشریٰ بی بی کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، وہ گھریلو خاتون ہیں، وہ 264 دن سے جیل میں قید ہیں، اس کیس میں 13 جولائی 2024 سے گرفتار ہیں۔انہوں نے عدالت بتایا کہ بشری بی بی پبلک آفس ہولڈر بھی نہیں ہیں، 3 سال 3 ماہ کی تاخیر سے یہ مقدمہ بنایا گیا، 31 جنوری 2024 کو نیب کے دوسرے ریفرنس میں بشری بی بی کو سزا دی گئی، 3 سال میں گرفتار کیا نہ ہی بشری بی بی کیخلاف کوئی کریمنل کیس بنایا گیا۔بعد ازاں، اسلام آباد ہائیکورٹ سے بشرہ بی بی درخواست ضمانت منظور کرلی، 10،10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کی عویض ضمانت منظور ہوئی۔

Comments are closed.