راولپنڈی (آن لائن) پی ٹی آئی نے مخصوص نشستوں کا کیس نو منتخب چیف جسٹس یحیی آفریدی کے سامنے ر کھنے کا اعلان کر دیا ۔ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ الحمد للّہ بشریٰ بی بی کی ضمانت کنفرم ہوگئی ہے۔ بی بی کو بیگناہ جیل میں رکھا گیا وہ ایک گھریلو خاتون ہیں انکا سیاست سے کوئی لینا دینا نہ ہونے کے باوجود انھیں توشہ خانہ کیس میں ملوث کیا گیا ۔عدلیہ کا مکمل احترام کرتے ہیں تمام کیسز میں انصاف کی توقع ہے ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے یہ سب چیزیں کہاں سے کنٹرول ہورہا رہی ہیں ۔ بشریٰ بی بی ایک گھریلو خاتون ہے انکے خلاف کیسز جھوٹے ہیں۔بانی پی ٹی آئی کو بھی ناجائز جیل میں رکھا گیا ہے ۔یہ سب کچھ جو ہورہا ہے اس میں انٹیلیز جنس ایجنسیز کا ہاتھ ہے۔ججوں کو اپنی کرسیوں سے غائب ہونا نئی بات نہیں۔ یا جوج ماجوج کے کہنے پر ججز اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہے۔نا انصافی کا جواب انہیں دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا چھبیسویں آئینی ترمیم بھونڈے طریقے سے منظور کروائی گئی۔
ہمارے پانچ اراکین کو اغواء کرکے ان سے ووٹ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ بشریٰ بی بی کی رہائی کے احکامات جاری ہو گئے ہیں۔ ان کا ایک دن بھی جیل میں رہنا قانون کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا آئینی ترمیم کے سلسلے میں ہونے والے پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران ایوان میں موجود لوگوں نے ایجنسیوں کے لوگوں نے نیشنل اسمبلی کے اہلکاروں کی یونیفارم پہنی تھی۔سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔ آخر عوام کے ساتھ یہ فراڈ کب تک چلے گا۔ لوگوں کو دھونس دباوٴ کے طریقے سے اٹھایا گیا۔شمالی کوریا اور برما جیسا ماحول بنایا گیا ہے۔ یاسمین راشد، عمر چیمہ، محمود الرشید سمیت 16 سو لوگوں کو غیر قانونی جیلوں میں رکھا گیا ہے ۔ ہماری آئینی قانونی جنگ جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا یہاں جج غائب ہیں اسکا مطلب آئین و قانون نہیں۔ ہم نئے چیف جسٹس کے سامنے مخصوص نشستوں کا کیس اٹھائینگے۔ انہوں نے کہا ہم ا پنی عدلیہ کی عزت و احترام کرتے ہیں۔نئے چیف جسٹس کے سامنے اپنے کیسز لیکر جائینگے۔ انہوں نے کہا علیمہ خان اور عظمی خان کو بے گناہ جیلوں میں رکھا گیا ہے۔
قاضی فائز عیسیٰ صاحب اب آپ گھر جائیں کافی پئیں اور ڈونٹس کھائیں۔ تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر عمر ایوب نے 26 وین آئینی ترمیم میں نمبر پورے کرنے کے عمل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے 5 اراکین کو اغواء کرکے وہاں پیش کیا گیا انکے ساتھ قومی اسمبلی کے یونیفارم میں ملبوس خفیہ اداروں کے اہلکار تھے اور زبردستی ان سے ووٹ لئے گئے ۔عمر ایوب نے کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ ٹرائل جج کرسی پر موجود نہیں جس وجہ سے روبکار جاری نہیں ہوئی انہوں نے کہا کہ ہمیں آج ضمانت کا پراسس مکمل ہوتا نظر نہیں آرہا اس پراسس کی مذمت کرتا ہوں ہمیں پتہ ہے یہ سب کہاں سے کنٹرول ہو رہا ہے حالانکہ بشریٰ بی بی کا سیاست سے تعلق نہیں انھیں اس کیس میں بلاوجہ ملوث کیا گیا سابق چیئرمین توشہ خانہ کے جعلی کیس میں جیل میں ہیں توشہ خانہ کے صحیح مجرم زرداری اور نواز شریف ہیں انہوں نے کہا کہ ججوں کے ادھر ادھر چلے جانے میں اس سب میں خفیہ اداروں کاہاتھ ہے یاجوج ماجوج کے کہنے پر جج صاحبان بیٹھے نہیں ناانصافی کا جواب انہیں قبروں میں دینا ہو گا 26 وین آئینی ترمیم میں جس طرح نمبرز پورے کئے گئے اسکی مذمت کرتے ہیں ہمارے 5 اراکین کو اغواء کرکے وہاں پیش کیا گیا انکے ساتھ خفیہ اداروں کے اہلکار آئے تھے زبردستی ان سے ووٹ لی گئی خفیہ اداروں کے لوگوں نے قومی اسمبلی کے اہلکاروں کے یونیفارم پہن رکھے تھے اس سارے پراسس میں فضل الرحمن کو بھی نہیں معلوم کہ انہوں نے کیا مسودہ فائنل کیاجس طرح یہ آئین سازی ہوئی اسکی مذمت کرتے ہیں خواتین کو اٹھایا گیا املاک کو نقصان پہنچایا گیا شمالی کورہا اور برما جیسا ماحول بنایا گیا جہاں قانون کی حکمرانی نہ ہو وہاں کوئی سرمایہ کاری نہیں کرتا ۔
Comments are closed.