26 ویں ترمیم میں تعاون کا بڑا انعام‘مولانا فضل الرحمان کا بڑا مطالبہ تسلیم‘ دینی مدارس کی رجسٹریشن کو سادہ بنا دیا گیا
اسلام آباد(آن لائن)26 ویں ترمیم کی منظوری میں تعاون کا بڑا انعام مل گیا،حکومت نے مولانا فضل الرحمان کا بڑا مطالبہ تسلیم کرلیا ‘ دینی مدارس کی رجسٹریشن کو سادہ بنا دیا گیا ُپارلیمنٹ سے سوسائٹیز ایکٹ ترمیمی بل منظور کروا لیا گیا ‘ دینی طبقے کی سب سے بڑی مشکل حل ہوگئی ۔ ہزاروں دینی مدارس کی رجسٹریشن کا معاملہ علماء کی منشاء کے مطابق ہوگا ۔اب ملک بھر کے دینی مدارس نہ صرف رجسٹرڈ ہونگے بلکہ اکاؤنٹ کھلوانے کی سہولیات بھی میسر ہونگی،پہلے سے قائم ہونے والے مدارس کو بھی بڑا قانونی کور مل گیا، رجسٹریشن کیلئے چھ ماہ سے ایک سال کی مہلت بھی دستیاب ہوگی۔سوسائیٹیز ایکٹ 1960ء میں ترمیم کا سینیٹ کے منظور ہونے والا بل من و عن قومی اسمبلی سے منظور کرالیا گیا۔اب حکومت الگ سے مدارس رجسڑیشن ایکٹ نہیں لائے گی ۔ہر دینی مدرسہ تعلیمی سرگرمیوں کی سالانہ رپورٹ رجسٹرار کو پیش کرنے کا پابند ہوگا ۔ہر دینی مدرسہ سالانہ اکاؤنٹس کے آڈٹ اور رپورٹ کی نقل رجسٹرار کے پاس جمع کرانے کا پابند ہوگا ۔
سوسائیٹیز ایکٹ 1860ء کی شق 21 میں 7 بنیادی اور دو اضافی ضمنی شقیں شامل کرلی گئیں۔ایکٹ کی متن کے مطابق سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی ایکٹ 2024 کا نفاذ فوری ہوگا،ایکٹ کیلئے پہلے سے موجود مدارس چھ ماہ جبکہ ایکٹ کے بعد بننے والی دینی درسگاہ 1 سال میں رجسٹرڈ ہوگی ،ایک سے زائد شاخیں رکھنے والے مدارس کی بھی بڑی مشکل آسان ہوگئی ۔صرف ایک ہی مین کیمپس کی رجسٹریشن کے علاوہ دیگر کسی دینی مدرسے کی رجسٹریشن کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ہر دینی مدرسہ تعلیمی سرگرمیوں کی سالانہ رپورٹ رجسٹرار کو پیش کرنے کا پابند ہوگا ۔ہر دینی مدرسہ سالانہ اکاؤنٹس کے آڈٹ اور رپورٹ کی نقل رجسٹرار کے پاس جمع کرانے کا پابند ہوگا ۔متن کے مطابق عسکریت پسندی، فرقہ واریت، مذہبی منافرت پھیلانے والا کوئی لٹریچر پڑھایا جائیگا نہ شائع کیا جائے گا،ہر دینی مدرسہ اپنے نصاب میں مرحلہ وار عصری مضامین بھی شامل کرے گا،سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ کے بعد دینی مدرسہ کو مزید کسی اور رجسٹریشن کی ضرورت نہیں ہوگی ،ایکٹ میں دینی مدرسہ کی بھی وضاحت کردی گئی ہر وہ دینی ادارہ، جامع یا دارالعلوم جو بنیادی دینی تعلیم کے مقصد کیساتھ قیام و طعام کی سہولت دے دینی مدرسہ کہلائے گا۔
Comments are closed.