وطن عزیز پر قربان ہونے والے لیفٹیننٹ کرنل محمد علی شوکت بہادری کی اعلٰی مثال ہیں

اسلام آباد(آن لائن)شہدائے پاکستان کو سلام، دفاع وطن کے لیے دی جانے والی لازوال قربانیاں افواج پاکستان کی میراث ہیں، ہمارے شہداء کی قربانیاں محفوظ پاکستان کی ضمانت ہیں، وطن عزیز پر قربان ہونے والے لیفٹیننٹ کرنل محمد علی شوکت بہادری کی اعلٰی مثال ہیں، لیفٹیننٹ کرنل محمد علی شوکت شہید نے 5 اکتوبر 2024 کو ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے سپن وام میں فتنتہ الخوارج کے خلاف لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا،لیفٹیننٹ کرنل محمد علی شوکت نے 4 اور 5 اکتوبر کی درمیانی شب شمالی وزیرستان کے علاقے سپن وام میں فتنتہ الخوارج کے خلاف کارروائی کو لیڈ کرتے ہوئے 6 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا، گھمسان کی لڑائی میں آپ دہشتگردوں کی جانب سے فائر کی جانے والی گولی کی زد میں آ کر شہید ہوگئے، لیفٹیننٹ کرنل محمد علی شوکت شہید نے سوگواران میں بیوہ، بیٹی اور ایک بیٹا چھوڑے، لیفٹیننٹ کرنل محمد علی شوکت شہید کا تعلق ضلع فیصل آباد سے ہے، لیفٹیننٹ کرنل محمد علی شوکت شہید کے لواحقین نے اپنے جذبات کا اظہار کیا، لیفٹیننٹ کرنل محمد علی شوکت شہید کی بیوہ نے بتایا کہ ان کے شوہر بہت بااخلاق اور نیک انسان تھے، وہ بہت بہادر اور دلیر تھے اور صحیح فیصلے پہ ہمیشہ ڈٹ جایا کرتے تھے، جو لوگ اس ملک کے لیے اپنی جان دے دیتے ہیں انکے گھر والوں کے دکھ کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، شہید کی بیوہ کا مزید کہنا تھا کہ مجھے اپنے شوہر کی شہادت کا بہت دکھ ہے لیکن خوشی ہے کہ اللہ نے انکو شہادت کا مرتبہ عطا کیا

، مجھے خوشی ہے کہ وہ میری زندگی کا حصہ تھے اور اپنے سے زیادہ اپنے ملک کا سوچتے تھے، لیفٹیننٹ کرنل محمد علی شوکت شہید کے صاحبزادے کا کہنا تھا کہ میرے بابا نے ہمیشہ مجھے اچھائی کی ترغیب کی اور سچے راستے پر چلنے کا کہا، میرے بابا کی ہمیشہ سے خواہش تھی کہ میں بھی پاک فوج میں بھرتی ہو کر ان کی طرح ملک کی خدمت کروں، میں بڑا ہو کر پاک فوج جوائن کروں گا اور ان کی طرح ملک کے لئے قربانی دینے دریغ نہیں کروں گا، میرے بابا مجھے بہت پیار کرتے تھے اور سمجھاتے تھے کہ ہمیشہ سچ کا ساتھ دینا ہے، لیفٹیننٹ کرنل محمد علی شوکت شہید کی بیٹی نے بتایا کہ مجھے اپنے بابا کی شہادت پر بہت فخر ہے کیونکہ کہ میرے بابا بہت بہادر انسان تھے، میرے بابا میری ہر خواہش پوری کر تے اور مجھ سے بہت پیار کرتے تھے، مجھے ان کی شہادت کا بہت دکھ ہے مگر یقین ہے کہ اللہ نے انکو جنت میں اعلی مقام سے نوازا ہے، مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میرے بابا ہمیشہ میرے آس پاس ہیں اور مجھے دیکھ رہے ہیں، میرے بابا ہمیشہ مجھ سے کہا کرتے تھے کہ میں پائلٹ بنوں اور ان کی طرح ملک کی خدمت کروں، لیفٹیننٹ کرنل محمد علی شوکت شہید کے بھائی بتاتے ہیں کہ میرا بھائی بہت دلیر تھا اور اپنے ملک سے بہت پیار کرتا تھا، میرے بھائی نے متعدد آپریشنز کو لیڈ کیا ملک کے دفاع کے لیے ہمیشہ سب سے آگے رہتا تھا

، آخری آپریشن میں بھی وہ دہشتگردوں کے خلاف آخری دم تک لڑتا رہا اور شہید ہو گیا، مجھے فخر ہے کہ آخری ٹائم تک بھی اس کے ہاتھ میں بندوق تھی اور وہ دشمنوں کے خلاف لڑتا رہا اور امر ہو گیا، لیفٹیننٹ کرنل محمد علی شوکت شہید کی بہن نے بتایا کہ اللہ نے میرے بھائی کو جو مقام دیا وہ بہت بلند ہے اور یہ مقام نصیب والوں کو ملتا ہے، والدہ کی وفات کے بعد میرا بھائی ہمارا بہت زیادہ خیال رکھتا تھا اور ہماری ساری ضروریات پوری کرتا تھا، بھائی سے ہماری بہت خوبصورت یادیں جڑی ہیں اور ہم ہر وقت انکو یاد کرتے ہیں، میری دعا ہے کہ اللہ میرے بھائی کے درجات بلند کرے، میرا شہید بھائی ہماری پہچان ہے جس سے ہمارا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے، ہمارے شہیدوں کی قربانیاں ہمارے وطن کی حفاظت کی عظیم مثال ہیں اور ان شہداء کا خون ہمیشہ ہمارے دلوں میں وطن کی محبت کو زندہ رکھتا ہے، ہمارے شہیدوں نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر وطن کی عظمت کو بلند کیا اور ان شہداء کی قربانی کبھی بھلائی نہیں جائے گی،لیفٹیننٹ کرنل محمد علی شوکت ہماری تاریخ کا دمکتا ستارہ ہے اور ان کی شہادت ہماری آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے۔

Comments are closed.