پی ٹی آئی کے سینیٹرز کا شدید احتجاج اور لفظی گولہ باری
سینیٹر ایمل ولی نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پر کرپشن اور نااہلی کے الزامات لگادیئے
اسلام اباد(آن لائن) ایوان بالا میں اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر ایمل ولی خان کی تقریر کے موقع پر پی ٹی آئی کے سینیٹرز کا شدید احتجاج اور لفظی گولہ باری، سینیٹر ایمل ولی نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پر کرپشن اور نااہلی کے الزامات لگاتے ہوئے کہا ہے کہ خوارج اور ریاست کی حمایت سے صوبے کی حکومت ان کو دی گئی ہے ۔منگل کو ایوان بالا میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے سینیٹر ایمل ولی خان نے کہاکہ پی ٹی آئی میں الیکٹیبلز کو زبردستی شامل کیاگیا ہے اور ان کے اپنے صدر چوہدری پرویز الٰہی کا بیان موجود ہے کہ ہمارے ساتھیوں کو پی ٹی آئی میں شامل کیا گیا اسی طرح طالبان کی کھلی حمایت کی اور2013میں وزیر ستان میں موجود تحریک طالبان کا کمانڈر یہ بیان دیتا ہے کہ ہمیں پی ٹی آئی کی حکومت قابل قبول ہے انہوں نے کہاکہ 2013میں سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک ،اسد قیصر اور شاہ فرمان طالبان کو دفتر کھولنے کی پیش کش کرتے رہے انہوں نے کہاکہ انہوں نے یہ سیاسی نظریہ پھیلایا کہ ان کے دفاتر ہونے چاہیے
انہوں نے کہاکہ پختون قوم دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے تھے پی پی اور اے این پی نے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا ہے اور اپنے اقابرین کی لاشیں اٹھائی ہیں انہوں نے کہاکہ 2013میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت تحریک طالبان اور دفاعی اداروں کے تعاؤن سے قائم کی گئی اور اسی طرح 2018میں جنرل فیض اور اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ سمیت پی ایم ایل کیو ،ایم کیو ایم اور بلوچستا ن عوامی پارٹی نے ان کی حکومت قائم کی انہوں نے کہاکہ جہانگیر ترین کے جہاز میں لوگوں کو لایا گیا اور وکٹیں گرائیں گئیں مگر آج کہتے ہیں کہ یہ غدار ہیں انہوں نے کہاکہ سینیٹر فیصل سلیم اور سینیٹر زرقاپر ان کی اپنی پارٹی نے الزام لگایا ہے ان دونوں سے معذرت کرنی چاہیے ان پر غلط الزام لگایا گیا تھا انہوں نے کہاکہ سابق چیرمین سینیٹ کا انتخاب سب کو یاد ہے میں اپنے ان سینیٹرز سے معذرت خواہ ہوں میں مدلل بات کرتا ہوں مگر ہمیں گالیاں دی جاتی ہیں کیا پختون ایسا کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کارکردگی دیکھیں پختونخوا کا پہلے 97ارب قرضہ تھا اور ا ج1500ارب روپے ہوچکا ہے اوروہ چار سال پورے پاکستان کو یاد ہیں اس وقت آرمی چیف جنرل باجوہ کی توسیع حلال تھی مگر اب کہتے ہیں کہ حرام ہیں انہو ں نے کہاکہ ان کی پوری حکومت اور پارلیمنٹ ایک کرنل چلاتے تھے اور ایوان صدر اس وقت آرڈیننس کا کارخانہ تھاانہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی اپنے دور کا ایک میگا پراجیکٹ دکھائے القادر ٹرسٹ ان کا کامیاب منصوبہ تھا توشہ خانہ ایک بہترین پراجیکٹ تھا اور میرے خیال میں ملک ریاض کے ساتھ 190ملین پاؤنڈ والا ان کا بہترین پراجیکٹ تھا انہوں نے کہاکہ 12سالوں میں پختونخوا میں حکومت کی ہے اپنی کارکردگی دکھا دیں انہوں نے کہاکہ بی آر ٹی میں 32ارب روپے کرپشن کی گئی اور یہ رقم 2018کے انتخابات میں استعمال ہوئی ہے انہوں نے کہاکہ بی آر ٹی کے کیس کا فیصلہ کیا جائے انہوں نے کہاک بلین ٹری سونامی ایک دوسری گھپلا تھا اور اس کی کرپشن چھپانے کیلئے جنگلوں میں آگ لگائی جاتی ہے انہوں نے کہاکہ سوات ایکسپریس وے جو کہ ہمارا منصوبہ تھا وہ ایف ڈبلیو او کے حوالے کیاگیا انہوں نے کہاکہ ایم ٹی آئی ایکٹ لایا گیا اور بانی پی ٹی آئی کے ایک عزیز کے زریعے پورے ہسپتالوں کے سسٹم کو تباہ کیا گیا
آج صوبے کے سرکاری سکولوں کی نجکاری کی جارہی ہے انہوں نے کہاکہ آج خیبر پختونخوا میں پیسے نہیں ہیں یونیورسٹیاں بند ہورہی ہیں تنخواہوں کے پیسے نہیں ہیں اور اب نوبت یونیورسٹیوں کی زمینوں کو بیچنے پر آگئی ہے انہوں نے کہاکہ میں دلیل اور سیاست پر بات کرتا ہوں مگر اس کے جواب میں مجھے اور میرے خاندان کو گالیاں دی جاتی ہیں جو بیانیاں سائفر سے شروع ہوا تھا اور کہا گیا کہ مجھے امریکہ نے نکالا ہے آج ااسی امریکہ کے سینیٹرز سے خط آرہے ہیں انہوں نے کہاکہ سیاسی بات کا سیاسی جواب دیا جائے گا اس موقع پر اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ ایمل ولی خان نے کہاہے کہ وہ پٹھان ہیں اور بہادر ہیں وہ ان پوائنٹس پر بات کریں جو انہوں نے بیان کئے ہیں انہوں نے کہاکہ کورم پوائنٹ کرنا کونسی پختون روایا ت ہیں انہوں نے کہاکہ یہ ایک فکس میچ ہے کہ ہماری پارٹی کے خلاف بات کی جائے اور اس کے بعد ہمیں بولنے نہ دیا جائے انہوں نے کہاکہ اس ایوان میں سیاسی باتیں زیادہ کی جاتی ہیں خیبر پختونخوا کے ایک لیڈر نے مختلف باتیں کی ہیں انہوں نے کہاکہ آج جو بھی مشہور ہونا چاہتا ہے وہ پی ٹی آئی اور بانی پی ٹی آئی کی بات کرتا ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان کے عوام بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے ایمل ولی خان کے بیانات کی مذمت کرتا ہوں انہوں نے کہاکہ ہم نے کسی کو گالی نہیں دینی ہے مگر صرف آئینہ دکھانا ہے انہوں نے کہاکہ جس طرح سے 26ویں ترمیم لائی گئی اور جس طرح سے پی ٹی آئی کے لوگوں کو اٹھایا گیا ہے وہ سب کے سامنے ہے انہوں نے کہاقائمقام پریذائیڈنگ آفیسر سینیٹر سلیم مانڈوی والا پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ کہ آپ کی وجہ سے یہ فکس میچ ہورہا ہے انہوں نے کہاکہ ایک ایسی پارٹی جس کے تین سینٹرز ہیں ان کو کیوں دو کمیٹیاں دی گئی ہیں۔اعجاز خان
Comments are closed.