اسلام آباد(آن لائن )سپریم کورٹ، معلومات تک رسائی کا کیس میں جج جسٹس اطہر من اللہ کا اردو میں اضافی نوٹ جاری کیاہے۔جس میں کہاگیاہے کہ معلومات تک رسائی کے قانون کو سختی سے نافذ کیا جائے۔درست ہے کہ ا ٓرٹیکل 19 اے کے بنیادی حق کا استعمال مناسب پابندیوں کے تابع ہے، مناسب پابندیوں کی اصطلاح مگر پارلیمان کو آئینی حق کا دائرہ محدود کرنے کا اختیار نہیں دیتی،آرٹیکل آٹھ ریاست کو ایسی قانون سازی سے روکتا ہے جو بنیادی حقوق کو ختم یا محدود کرے، سپریم کورٹ بنیادی حقوق کے تناظر میں دیگر اداروں کے اقدامات کا عدالتی جائزہ لیتی ہے، یہ ناقابل تصور ہے کہ سپریم کورٹ شہریوں کے بنیادی حقوق چھین لے ، عوام یہ سمجھیں کہ بنیادی حقوق کے محافظ خود حقوق محدود کرنے میں ملوث ہیں تو ان کا اعتماد ختم ہوجائے گا،
انھوں نے مزیدکہاہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے فیصلے سے متفق ہوں، عوامی اعتماد ختم ہوا تو عدلیہ کی آزادی کمزور پڑ جائے گی، سپریم کورٹ کے پاس تلوار یا خزانے کا کوئی کنٹرول نہیں، سپریم کورٹ کی قوت صرف عوام کا اعتماد ہے، معلومات تک رسائی کا حق بدعنوانی کیخلاف ایک قلعہ ہے، ججز اور ملازمین کی مراعات سپریم کورٹ کا بجٹ عوامی اہمیت کے حامل اور شہریوں کی دلچسپی کے موضوع ہیں، شہریوں کو معلومات کی فراہمی کیلئے درخواست دائر کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہونی چاہیے۔یاد رہے کہ سابق چیف جسٹس قاضی فائزعیسیی کی سربراہی میں بنچ نے سپریم کورٹ نے ایک شہری کی درخواست پر رجسٹرار سپریم کورٹ کوتمام ترمعلومات فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔واضح رہے کہ قومی اسمبلی نے مشرف دور میں منظور شدہ ’رائٹ ٹو انفارمیشن آرڈیننس 2002‘ کو تبدیل کرتے ہوئے ’دی رائٹ آف ایکسیس ٹو انفارمشن ایکٹ 2017‘ منظور کیا تھا، جس کے تحت شہری تمام وفاقی وزارتوں اور محکموں سے معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔
اٹھاریوں ترمیم میں پاکستان کے آئین میں آرٹیکل 19 اے کو شامل کیا گیا جس کے مطابق کوئی بھی شہری قوانین کے تحت مفاد عامہ سے متعلق کسی بھی محکمے سے معلومات حاصل کرسکتا ہے۔اس سلسلے میں 2018 میں پاکستان انفارمیشن کمیشن تشکیل دیا گیا تھا جسے گزشتہ سال کے ا?خر تک اپنے قیام کے 4 سال بعد شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی کْل 2 ہزار 474 درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔
Comments are closed.