توڑپھوڑ کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ نے اعظم سواتی کا جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دے دیا

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ سمیت 12 مقدمات میں اعظم سواتی کا جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دے دیا،جسٹس گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے ہیں کہ میرا گزشتہ روز کا غصہ قابل جواز نہیں تھا مجھے افسوس ہے،جج ہمارے سامنے نہیں تھے مجھے اس طرح نہیں کرنا چاہئے تھا،ہم جو فیصلے میں نہیں لکھ سکتے عدالت میں کہہ بھی نہیں سکتے۔ انھوں نے یہ ریمارکس جمعرات کے روزدیے ہیں۔اعظم سواتی کے عدالتی اوقات کے بعد جسمانی ریمانڈ دینے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی۔،وکیل علی بخاری نے کہاکہ 11اکتوبر کو ہائیکورٹ میں لسٹ جمع ہوئی کہ اعظم سواتی کیخلاف 12مقدمات ہیں،ایک ایف آئی آر ہائیکورٹ میں جمع کرائی تفصیلات جان بوجھ کر چھپائی گئی۔جسٹس حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا پراسیکیوشن کا اعظم سواتی کا اب مزید جسمانی ریمانڈمانگنے کا ارادہ ہے؟

پراسیکیوٹر جنرل اسلام آباد نے کہا کہ میں اس بارے میں ابھی کوئی بیان نہیں دے سکتا۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اعظم سواتی اب تمام مقدمات میں گرفتار ہیں؟پراسیکیوٹر جنرل نے کہاکہ تمام مقدمات میں جسمانی ریمانڈ ہو چکا تو وہ تمام مقدمات میں گرفتار ہیں۔جسٹس حسن اورنگزیب نے کہا کہ ایک بندے کا جسمانی ریمانڈہوا، ریمانڈ ختم ہونے پر دوسرا ریمانڈ لے لیاگیا،جج کو کہنا چاہیے تھا5اکتوبر کا مقدمہ ہے مجھ سے ریمانڈ کیسے مانگ رہے ہیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی رپورٹ پر اطمینان کااظہار کردیا،جسٹس گل حسن اورنگزیب نے کہاکہ جج ابوالحسنات نے جو رپورٹ دی ہم اس پر مطمئن ہیں،میرا گزشتہ روز کا غصہ قابل جواز نہیں تھا مجھے افسوس ہے،جج ہمارے سامنے نہیں تھے مجھے اس طرح نہیں کرنا چاہیے تھا،ہم جو فیصلے میں نہیں لکھ سکتے عدالت میں کہہ بھی نہیں سکتے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اعظم سواتی کے جسمانی ریمانڈ کا آرڈر کالعدم قرار دیدیا۔

Comments are closed.