سینیٹ قانون و انصاف کمیٹی کا اجلاس :سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد بڑھانے کی کثرت رائے سے منظوری
انگلینڈ میں 12 ججز اور بنگلہ دیش میں 54 ججز ہیں ،چیئرمین کمیٹی ،فاروق ایچ نائیک
اسلام آباد(آن لائن ) سینیٹ قانون و انصاف کمیٹی نے سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد میں اضافے کی منظوری کثرت رائے سے دیدی ،پی ٹی آئی اور جے یوآئی کے اراکین کمیٹی کی مخالفت کی،جمعہ کو سینیٹ قانون و انصاف کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت منعقد ہوا اجلاس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ سیکرٹری قانون و انصاف سمیت دیگر حکام نے شرکت کی
،اجلاس میں پی ٹی آئی کی سینیٹر فوزیہ ارشد نے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے کا پرانا بل واپس لے لیا سینیٹر فوزیہ ارشد نے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 23 کرنے کے لیے بل کمیٹی میں پیش کیا تھا تاہم بعد میں کمیٹی نے فوزیہ ارشد کی درخواست پر بل واپس کر دیا اجلاس میں سینیٹر ثمینہ ممتار زہری کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 62 میں ارکان اسمبلی کے لئے گرائجویشن کی شرط شامل کرنے کے حوالے سے ایوان بالا میں پیش کئے گئے بل پر غو ر کیا گیا رکن کمیٹی سینیٹر ضمیر حسین گھومرو نے کہاکہ بل میں ارکان اسمبلی بننے کے لیے گریجویشن کی شرط رکھنے کا زکر کیا گیا ہے اس موقع پر چیرمین کمیٹی نے کہاکہ پرویز مشرف نے بینظیر بھٹو کا پارلیمنٹ میں راستہ ر وکنے کے لیے گریجویشن کی شرط قانون میں رکھی تھی انہوں نے کہاکہ پرویز مشرف یہ سمجھتے تھے کہ محترمہ بی اے پاس ہیں گریجویٹ نہیں ہیں جس پر پرویز مشرف کو محترمہ کی گریجوایشن کی ڈگری دکھائی گئی رکن کمیٹی سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہاکہ گریجویشن کی شرط سے کا نہیں شائد زرداری صاحب کا راستہ روکنے کی کوشش کی گئی کمیٹی نے سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی عدم موجودگی پر بل موخرکردیاگیا اجلاس میں لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی بل سے متعلق سیکرٹری قانون کی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پہلے یہ وزارتِ انصاف کے ماتحت کام کر رہا تھا اب اسے انصاف و قانون کے ماتحت کر دیا یے انہوں نے بتایا کہ ڈائریکٹر جزل کو وزارت قانون نے تعینات کیا تھا ان کا ٹینور 3 ماہ پہلے ختم ہوا یے سیکرٹری قانون نے بتایا کہ پہلے مالی سال میں ڈیڈھ کروڑ روپے کا بجٹ ہے لیکن آگے ہم اس پر گرانٹ لے لیں گے جس پر چیرمین کمیٹی نے کہاکہ جو چیزیں پاس ہو گئی ہیں ہم اس پر بحث نہیں کریں گے اگر ڈائریکٹر جزل کسی بھی وجہ سے غیر حاضر ہے کسی بھی افسر کو 90 دن کے لیے اضافی چارج دیا جا سکتا یے رکن کمیٹی سینیٹر ضمیر حسین گھومرو نے کہاکہ کرمنل جسٹس سسٹم پورے صوبے میں ہے آپکو لیگل ایڈ دینی چاہیے سینیٹر انوشہ رحمن نے کہاکہ آپ کے پاس ابھی اس کا اختیار نہیں آیا آپ نے بل بھی لے لیا ہے سینیٹر عبدالقادر بلوچ نے کہاکہ ہر چیز قانون و انصاف میں کیوں لانا چاہتے ہیں اجلاس میں سینیٹر عبدالقاد نے ججز کی تعداد میں اضافے کے حوالے سے پیش کردہ بل پر بات کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کی آبادی بڑھی ہے کرائم ریٹ بڑھا ہے
ججز کی تعداد 1995 والی چل رہی ہے انہوں نے کہاکہ اب تو کیس فکس کروانے کے لیے بھی سفارشیں کروائی جاتی ہیں انہوں نے کہاکہ 26 ویں ترمیم میں جو بینچ بنائے ہیں اب ججز کو اس میں بھی وقت دینا پڑے گا انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کے پاس کام ذیادہ ہے ججز کی تعداد بڑھانی چاہیے انہوں نے کہاکہ سندھ، خیبرپختونخوا، پنجاب میں ججز کی سیٹیں خالی ہیں جس پر سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہاکہ سپریم کورٹ میں چند ماہ پہلے کتنی سیٹیں خالی تھیں اسکی بھی ایک وجہ تھی، سینیٹر حامد خان نے کہاکہ انصاف کی فراہمی میں اگر صرف سیٹیں ہی مسئلہ ہوتی تو ہم کہہ سکتے تھے کہ تعداد بڑھا دیں، سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہاکہ پچھلے ہفتے کی کاز لسٹ دیکھیں تو 12 سے زیادہ کیسز نہیں لگتے تھے اب 30 30 مقدمات لگتے ہیں مطلب یہ ہے کہ پہلے بھی کیپیسٹی پوری تھی جان بوجھ کر مقدمات لٹکائے گئے انہوں نے کہاکہ سب سے بڑا اسٹیک ہولڈر سپریم کورٹ خود ہے ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ کو ججز کی ضرورت ہے کہ نہیں انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کو خط لکھ کر پوچھ لیں کہ وہاں ججز کی ضرورت تھی یا نہیں ہے سینیٹر حامد خان نے کہاکہ ججز کی تعداد بڑھانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اگر ججز کی تعداد بڑھانی یے تو ہائیکورٹ میں بڑھائیں وہاں ضرورت ہے چیرمین کمیٹی نے کہاکہ انگلینڈ میں 12 ججز ہیں، بنگلہ دیش میں 54 ججز ہیں سینیٹر شہادت اعوان نے کہاکہ سپریم کورٹ ججز کو کم از کم 21 لازمی کرنا چاہیے اگر اخبار بتا سکتا ہے کہ مقدمات کی تعداد 60 ہزار ہیں تو آپ کیوں نہیں بتاسکتے ہیں چیرمین کمیٹی نے سیکرٹری قانون سے استفسار کیاکہ آپکو انفورمیشن کے لیے کتنا وقت چاہیے،جس پر سیکرٹری قانون نے کہاکہ ہمیں کم سے کم بھی تین ہفتے کا وقت دے دیں،
سیکرٹری قانون سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہاکہ نئے چیف جسٹس سب کی پسند سے آئے ہیں ان کو دو تین ماہ دینے چاہیے انہوں نے کہاکہ یہ سارا میلہ نئے چیف جسٹس کو لانے کے لیے ہی تھا انہوں نے کہاکہ ہم ایک انتہائی غریب ملک ہیں ہمیں ججز پر بہت خرچ کرنا پڑتا یے سینیٹر حامد خان نے کہاکہ جب کسی ملک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں تو ججز کی تعداد بڑھا دی جاتی ہے کیونکہ مرضی کے فیصلے نہیں آ رہے ہوتے انہوں نے کہاکہ آپ بتائیں آپکی حکومت کیا کرنا چاہ رہی یے یہ بتائیں سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہاکہ سپریم کورٹ میں اس وقت ججز کے دو گروپ ہیں اجلاس میں طویل بحث کے بعد کمیٹی نے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 25 کرنے کی منظوری دے دی 25 ججز میں ایک چیف جسٹس اور 24 ججز شامل ہوں گے اس موقع پر پی ٹی آئی کے سینیٹر حامد خان اور جے یوآئی کے سینیٹر کامران مرتضی نے ججز کی تعداد بڑھانے کی مخالفت کردی۔۔۔۔۔۔اعجاز خان
Comments are closed.