انسداد دہشتگردی ایکٹ میں ترمیم کسی صورت منظور نہیں‘ یہ 26ویں آئینی ترمیم کی روح کے منافی ہے‘فضل الرحمان

سپریم کورٹ کے غیر اسلامی فیصلوں اور حکومت کی غیر اسلای قانون سازی کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے

اسلام آباد(آن لائن)جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم کسی صورت منظور نہیں ہے یہ 26ویں آئینی ترمیم کی روح کے منافی ہے‘ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی ایسے بل منظور کرکے اپنے منہ پر کالک نہ ملیں‘ آرمی چیف کی توسیع کسی بھی حکومت کو اختیار ہوتا ہے تاہم کسی کے دباؤ پر قانون سازی نہیں ہونی چاہیے۔سوموار کو مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ حکومت پارلیمنٹ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے حوالے سے ایک ترمیم پیش کرنے جارہی ہے جو کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہے‘ کسی کو بھی شک کی بنیاد پر 90 روز اپنی تحویل میں رکھنے اور تحویل کی مدت میں اضافہ کرنا ملک میں سول مارشل لا قائم کرنے کے مترادف ہوگا یہ جمہوریت کے چہرے پر ایک دھبہ ہوگا میں نہیں سمجھتا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے چہرے پر کالک ملیں گے انہوں نے کہاکہ 26ویں ترمیم کے حوالے سے حکومت سوچے کہ کن کن ترامیم کو واپس لیا گیا یہ نیا ایکٹ 26آئینی ترمیم کی روح کے منافی ہے انہوں نے کہاکہ کیا یہ آئین کا تقاضہ ہوگا کہ کل جو کردار واپس لئے گئے تھے جس سے آرمڈ فورسز کو سول اختیارات میں اضافہ ہورہا تھا آج اس کو دوبارہ لایا جارہا ہے‘یہ 26ویں آئینی ترمیم اور پارلیمنٹ کی توہین ہے انہوں نے کہاکہ جے یوآئی اس سے پہلے بھی اسلام آباد کی حدود تک منظور کئے گئے ایکٹ جس کا تعلق وقف املاک سے ہے اس کو غیر شرعی قرارد دے چکی ہے اور یہ صرف جے یوآئی کی رائے نہیں بلکہ امت اور اسلامی نظریاتی کونسل بھی اس ایکٹ کے خلاف رائے دے چکی ہے آج اسی ایکٹ کے قریب قریب ایک ایکٹ پھر منظور کیا جارہا ہے اس سے اندازہ لگائیں کہ اگر آج ہندوستان کی حکومت وہاں کے مسلمانوں کے اربوں ایکڑ پر مشتمل مسلم اراضی کے خلاف ایک قانون منظور کرنے اور جائیدادوں کو جس طرح ہڑپ کرنا چاہتا ہے اسی طرح پاکستان کی حکومت نے پاکستان کے اندر رہ کر مسلمانوں کی جائیداد کو ہڑپ کرنے کی کوشش کی ہے انہوں نے کہاکہ ہم اسلامی احکامات اور اللہ کے دین کے ساتھ کیا مذاق کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مبارک ثانی کیس میں سپریم کورٹ کو اپنے فیصلوں کی اصلاح کرنی پڑی اسی طریقے سے شادی بیاہ اور دوسری شادی کے معاملے پر جو فیصلے آئے ہیں وہ اسلامی شریعت کے خلاف ہیں ‘میں اللہ کے حکم کے طابع ہوکر چلتا ہوں یہ اعلان کرتا ہوں کہ سپریم کورٹ کے غیر اسلامی فیصلوں اور حکومت کی غیر اسلای قانون سازی کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے اس کے خلاف عدالتوں سے رجوع کریں گے انہوں نے کہاکہ اسلامی اقدار کو انسانی حقوق کے منافی قرار دینا کسی ملحد کا کردار ہوسکتا ہے انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے ہم عوام کے اندر بیداری اور شعور پیدا کریں گے تاکہ کوئی اسلام کے ساتھ کھلواڑ نہ کرسکے چاہے وہ ہماری عدالتیں ہوں یا ہماری پارلیمنٹ ہو ا۔انہوں نے کہاکہ 28نومبر کو سکھر میں باب اسلام کانفرنس ہوگا جبکہ 8دسمبر کو پشاور میں اسرائیل مردہ باد کانفرنس کریں گے ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ حکومت کی جانب سے ابھی تک 27ویں آئینی ترمیم پیش کرنے کے حوالے سے کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے جب کوئی بات سامنے آئے گی تو اس وقت جواب دیں گے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ اگر پارلیمنٹ سے ارمی ایکٹ ترمیمی بل منظور ہوا تو اس کے خلاف ہر فورم پر بات کریں گے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ہم اس ضرورت کو محسوس کرتے ہیں کہ جے یوآئی جو اپوزیشن کی جماعت اسی طرح پی ٹی آئی بھی اپوزیشن کی جماعت ہے اگر ہم اس ماحول سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور تعلقات کے اندر تلخی ختم کرکے بہتر ماحول پیدا کرسکتے ہیں تو کیوں نہ کریں انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کے ساتھ اختلاف کے باوجود تلخیوں کا خاتمہ کریں تو یہ ملکی سیاست کیلئے بہتر ہوگا انہوں نے کہاکہ جس سسٹم کے تحت ماضی میں عدلیہ ایک ایسی جگہ پہنچ گئی جس سے پارلیمان کی بالادستی بری طرح متاثر ہوئی تھی اس کے خلاف کوئی نہ کوئی راستہ تو حکومت نکالے گی انہوں نے کہاکہ آرمی چیف کا ایکسٹیشن دینا حکومت کا اختیار ہے تاہم اپنے اختیارات میں اس حد تک اضافہ کرنا کہ اپنی مرضی کے قانون منظور کرائیں جس سے لگتا ہے کہ ملک میں مارشل لاء لگا ہوا ہے انہوں نے کہاکہ ایک جانب اپنے خلاف بات کرنے والوں کو شک کی بنیاد پر بھی گرفتار کر لیا جاتا ہے انہوں نے کہاکہ حالات کا سہارا لیکر اپنے اختیارا ت میں اضافہ کرنا بلاجواز ہے پاکستان کو ایک سویلین اسٹیٹ کے مطور پر متعارف کرانا ہے ورنہ بیرونی ممالک میں جمہوری ملک کا پروٹوکول نہیں ملے گا انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ میں اس پر بات کرچکا ہوں کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ غیر انسانی سلوک بند کیا جائے۔

Comments are closed.