قومی و بین الاقوامی ادارے ملکی معیشت کے استحکام کی گواہی دے رہے ہیں‘ شہباز شریف

اسلام آباد(آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ قومی و بین الاقوامی ادارے ملکی معیشت کے استحکام کی گواہی دے رہے ہیں‘ ملک میں انتشار پھیلانے اور خدا نہ خواستہ ملک کو دیوالیہ کرنے کے دہانے پر پہنچانے والوں کے ناپاک منصوبے ناکام ہوگئے‘اسٹیٹ بینک نے بھی شرح سود میں 250 پوائنٹس کی کمی کردی‘شرح سود 17.5 فیصد سے 15 فیصد پر آنا خوش آئند ہے‘ملک میں کاروباری سرگرمیوں، برآمدات اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا‘مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہوکر 7 فیصد تک آگئی ہے۔وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں ملکی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ ایف بی آر کو ہدایت کی ہے کہ ایسے لوگ جو ٹیکس دیتے ہیں وہ پاکستان کے سفیر ہیں، ان کی تکریم کی جائے۔ ایسے لوگ جو ٹیکس دینے کے اہل ہونے کے باوجود ٹیکس چوری کرتے ہیں اور افسران جو انکی چوری میں معاونت کرتے ہیں انکے خلاف گھیرا تنگ کیا جائے۔ شہبازشریف نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے اور آپ سب کی کوششوں سے پاکستان کی معیشت مستحکم ہو رہی ہے‘اسٹیٹ بینک نے بھی شرح سود میں 250 پوائنٹس کی کمی کردی۔250 پوائنٹس کی کمی سے شرح سود 17.5 فیصد سے 15 فیصد پر آنا خوش آئند ہے۔شرح سود میں کمی سے ملک میں کاروباری سرگرمیوں، برآمدات اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا‘مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہوکر 7 فیصد تک آگئی۔

شہبازشریف نے کہا کہ قومی و بین الاقوامی ادارے ملکی معیشت کے استحکام کی گواہی دے رہے ہیں‘ملک میں انتشار پھیلانے اور خدا نہ خواستہ ملک کو دیوالیہ کرنے کے دہانے پر پہنچانے والوں کے ناپاک منصوبے ناکام ہوئے۔وزیرِاعظم نے کہا کہ ملک کی بقاء کی خاطر اپنی سیاست کی قربانی دینے والوں کو تاریخ ہمیشہ اچھے الفاظ میں یاد رکھے گی‘مؤرخ جب تاریخ لکھے گا تو واضح طور پر ملک کے خیر خواہوں اور آئی ایم ایف کو قرض دینے سے روکنے کیلئے خط لکھنے والوں کے بارے لکھے گا۔انہوں نے ارکان سے کہا کہ آپ سب وہ عظیم لوگ ہیں جنہوں نے اپنی سیاست کی پرواہ کئے بغیر 24 کروڑ عوام کے بارے سوچا۔حالیہ دورہِ سعودی عرب میں پاکستان سعودیہ سرمایہ کاری شراکت داری میں نئے باب کا اضافہ ہوا۔فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹیو میں سعودی قیادت بالخصوص ولی عہد عزت مآب محمد بن سلمان سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ دوست اور شراکت دار ہے۔سعودی قیادت نے پاکستان کی معیشت کے استحکام اور ترقی کیلئے ہر قسم کی معاونت کی یقین دہانی کروائی۔سعودیہ کی پاکستان میں حالیہ سرمایہ کاری کا حجم 2.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2.8 ارب ڈالر ہو جائے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ اپنے دورہءِ قطر کے دوران قطری قیادت نے بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کے اضافے کی یقین دہانی کروائی‘پاکستان میں قطری سرمایہ کاری کے 3 ارب ڈالر کو منصوبوں کی شکل دینے کی بات ہوئی۔وزیراعظم نے کہا کہ قطر پاکستان کے ہوابازی، ہوٹلنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور توانائی سمیت دیگر مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرے گا‘

حکومت پاکستان میں سرمایہ کاری کی سہولت اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے‘پاکستان کے ہر شعبے میں اصلاحات کا ایجنڈا نافذ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کو ہدایت کی ہے کہ ایسے لوگ جو ٹیکس دیتے ہیں وہ پاکستان کے سفیر ہیں، ان کی تکریم کی جائے۔ ایسے لوگ جو ٹیکس دینے کے اہل ہونے کے باوجود ٹیکس چوری کرتے ہیں اور افسران جو انکی چوری میں معاونت کرتے ہیں انکے خلاف گھیرا تنگ کیا جائے۔اجلاس میں پارلیمانی پارٹی کو قومی اسمبلی میں مجوزہ قانون سازی کے بِل کے حوالے سے بھی اعتماد میں لیا گیا۔

Comments are closed.