راولپنڈی (آن لائن) سپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے تحریک انصاف کے سابق چیئرمین اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف بلغاری کمپنی کے بیش قیمت زیورات کے حصول سے متعلق توشہ خانہ کے نئے کیس میں بشریٰ بی بی کی حاضری سے استثنی کی درخواست منظور کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر بشریٰ بی بی کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے گزشتہ روز اڈیالہ جیل میں سماعت کے موقع پر ملزمان کے وکلا نے بریت کی درخواستوں پر دلائل دیئے جبکہ ایف آئی اے کے وکیل ذوالفقار عباس نقوی نے سابق چیئرمین اور بشریٰ بی بی کی بریت کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ بریت کی درخواستیں فرد جرم عائد کرنے کی کاروائی کو تاخیر کا شکار کرنے کی کوشش ہیں ایف آئی اے کے وکیل کا موقف تھا کہ عدالت فرد جرم عائد کرنے کیلئے تین، چار تاریخیں دے چکی مگر فرد جرم عائد نہیں ہونے دی جارہی لہٰذا عدالت ملزمان پر فرد جرم عائد کرے۔ اس موقع پر ملزمان کے وکیل بیرسٹر سلیمان صفدر نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ بریت کے حق میں کچھ دستاویزات جمع کروانا چاہتے ہیں
جس کے لئے وقت دیا جائے جس پر عدالت نے کیس کی سماعت 8 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر بریت کی درخواستوں پر دلائل مکمّل کئے جائیں۔ سماعت کے بعد جیل کے باہر سابق چیئرمین کی ہمشیرہ علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سابق چیئرمین نے کہا کہ کل جو کچھ اسمبلی میں ہوا جو ظلم کا نظام تھا اس کو جائز کر دیا گیا وہ اس پر بڑی دیر سے کہہ رہے ہیں گینگ آف تھری ایکسٹنشن مافیا 4 گھنٹے میں بغیر کسی بحث میں ترمیم پاس کر کے عالمی ریکارڈ قائم کیا جمہوریت اور انصاف کے نظام کو کیسے دفن کیا جاتا ہے جو میں ڈیڑھ سال سے کہہ رہا ہوں کہ آپ سے آپ کی آزادی چھین جاری رہی ہے سپریم کورٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سابق چیئرمین نے قوم سے یہ بھی سوال کیا ہے کہ آپ نے اس ظلم کے نظام کو قبول کرنا ہے یا اس کا مقابلہ کرنا ہے‘ مقابلہ کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آپ اس ظلم کے خلاف باہر نکلیں لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں میں نکلیں، نہیں تو اسی ظلم کے نظام میں آپ کو رہنا پڑے گا آپ کو یہ اندازا یہ کہ یہ ملک کتنے لوگ چھوڑ کر جا رہے ہیں سابق چیئرمین نے کہا کہ یہ ملک ہمارا ہے ہم اسی میں رہنا ہے انصاف کے لئے ہم نے اس ملک میں انصاف لے کر آنا ہے یہ لوگ کسی کو بھی اٹھا کر کے جاتے ہیں کیا آپ کو یہ نظام قبول ہے۔
Comments are closed.