اسلام آباد(آن لائن )اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سرداراعجازاسحاق نے عدالتی حکم کے باوجود بانی پی ٹی آئی عمران خان کی سیاسی رہنماوٴں سے ملاقات نہ کرانے کی توہینِ عدالت درخواست پر آج جمعہ کوسپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کوطلب کرلیاجبکہ عدالت نے اسٹیٹ کونسل سے استفسار کیا ہے کہ کیا وجہ ہے بار بار ایسا ہوتا ہے؟ ہمارے آرڈر کے باوجود اگر پٹیشن آتی ہے تو ہم نے لکھا تھا کہ اسٹیٹ پر جرمانہ عائد ہو گا۔سماعت کی جبکہ سابق وزیراعظم کی جانب سے وکیل ایڈووکیٹ فیصل چوہدری عدالت میں پیش ہوئے۔فیصل چوہدری نے موٴقف اپنایا کہ پہلے اسی عدالت سے آرڈر ہو چکے ہیں، جیل رولز کے مطابق عدالت نے آرڈر جاری کیے تھے۔عدالت نے سوال کیا کہ اب کیا صورتِ حال ہے؟ جس پر وکیل فیصل چوہدری نے جواب دیا کہ پارٹی رہنماوٴں سے ملاقاتیں پھر کینسل کردی گئی ہیں
، ہم بار بار اس عدالت کو تکلیف دیتے ہیں لیکن مجبورا ہمیں یہاں آنا پڑتا ہے، شبلی فراز، عمرایوب اور اسد قیصر کو ملنے نہیں دیا گیا، اسی عدالت نے 3 وکلاء پر مشتمل کمیشن بھی قائم کیا تھا لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے پوچھا کہ درخواست گزار اب کسی کیس میں سزا یافتہ تو نہیں، جس پر فیصل چوہدری نے کہا کہ نہیں درخواست گزار اب سزا یافتہ نہیں انڈر ٹرائل قیدی ہے۔عدالت نے اسٹیٹ کونسل سے استفسار کیا کہ کیا وجہ ہے بار بار ایسا ہوتا ہے؟ ہمارے آرڈر کے باوجود اگر پٹیشن آتی ہے تو ہم نے لکھا تھا کہ اسٹیٹ پر جرمانہ عائد ہو گا۔اس پر اسٹیٹ کونسل نے کہا کہ ہم جیل حکام سے پوچھ لیتے ہیں جو بھی صورتِ حال ہے، سپرنٹنڈنٹ جیل ہی بہتر بتا سکتے ہیں کہ کیوں ملاقات نہیں کروائی جاتی؟عدالت نے اسٹیٹ کونسل کو ہدایت کی کہ آپ اس درخواست کو دیکھیں، سپرنٹنڈنٹ جیل کو کہیں کہ پیش ہوں۔عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ کو آج جمعہ 10 بجے طلب کر کے سماعت ملتوی کر دی۔
Comments are closed.