خیبر پختونخوا کے اساتذہ کے حقوق کو دبانے کے لئے تشدد کا راستہ اپنایا جا رہا ہے، عطاء اللہ تارڑ
معیشت استحکام سے ترقی کی طرف جا رہی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ معاشی اشاریئے بہتر ہو رہے ہیں
اسلام آباد (آن لائن ) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پریس کانفرنس کرتے ہوے انہوں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی ون ڈے میچ میں کامیابی کو حوصلہ افزاء قرار دیتے ہوے کہا قومی کرکٹ ٹیم نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا۔ آنے والے دنوں میں پاکستان کرکٹ ٹیم اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم 10 نومبر کو سعودی عرب روانہ ہوں گے۔ جہاں وہ فلسطین کے معاملہ پر ریاض سمٹ میں شرکت کریں گے۔ سمٹ میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوگی۔ انہوں نے کہا وزیراعظم نے ہر فورم پر غزہ اور فلسطین کے معاملہ پر آواز بلند کی۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیراعظم کی تقریر کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ دیکھا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا وزیراعظم کوپ 29 کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔ جہاں دو ارب ڈالر کے سرمایہ کاری کے معا ئدوں کو حتمی شکل دی جائے گی جس کا اعلان باکو نے کر رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا تحریک انتشار اپنی روش پر قائم ہے۔ تحریک انتشار صرف این ار او کے لئے ملک میں امن و امان کو داو پر لگا رہی ہے۔ خیبر پختونخوا کے اساتذہ کے حقوق کو دبانے کے لئے تشدد کا راستہ اپنایا جا رہا ہے۔ خیبر پختونخوا کے اساتذہ کی آواز سنی جانی چاہئے۔ یہ لوگ اپنے حقوق کے لئے پرامن احتجاج کرنے والوں کو دبا رہے ہیں اور خود دھاوے بول رہے ہیں ۔ خیبر پختونخوا میں امور نوجوانان پر بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ صوبے میں تعلیمی نظام تباہ حال ہے۔ انکا احتجاج اپنے لیڈر کی رہائی کے لئے ہے ۔
ملکی معیشت پربات کرتے ہوے انہوں نے کہا معیشت استحکام سے ترقی کی طرف جا رہی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ معاشی اشاریئے بہتر ہو رہے ہیں۔ معیشت کو بہتر کرنے کے لئے ہم دن رات کوشاں ہیں۔ یو اے ای کا وفد سرمایہ کاری کے لئے پاکستان کے دورے پر ہے۔ یو اے ای کے وفد کی وزیراعظم سے ملاقات ہوگی۔ وزیراعظم کی سرمایہ کاری پر بھرپور توجہ ہے۔ اکتوبر میں ترسیلات زر میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا تحریک انتشار اپنے صوبے میں اپنے آپ سے ہی مطالبہ کر ہی ہے۔ سپریم کورٹ بار کے الیکشن کا نتیجہ 26 ویں آئینی ترمیم پر مہر ہے۔ انہوں نے کہا بدتمیزی کرنے کے بعد شرپسند عناصر سوشل میڈ یا پر معافیاں مانگ رہے ہیں۔ ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود پاکستان ترقی کر رہا ہے۔
یہ چاہتے تھے کہ پاکستان ڈیفالٹ کرے لیکن اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے باہر نکل آیا ۔ اب تحریک انصاف مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں ان کو ڈر تھا کہ لوگ اکٹھے نہیں کرسکیں گے اور جلسہ ناکام ہوگا تو انتظامیہ کی اجازت نہ ملنے کے پیچھے چھپا جارہا ہے، ان جلسوں کا مقصد این آر او اور انتشار کے علاوہ کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انتشار اپنی روش پر قائم ہے۔ یہ صرف این آر او کے لیے ملک میں امن و امان کو داوٴ پر لگا رہی ہے۔ بانی چیئرمین پی ٹی آئی پر کرپشن کے کیسز ہیں۔
Comments are closed.