کوئٹہ (آن لائن)صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر خودکش دھماکے میں خاتون سمیت 24افراد جانبحق اور 53 زخمی ہوگئے دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی دھماکے سے انسانی اعضا بکھر گئے اور ریلوے اسٹیشن کی چھت اور دیگر عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ریلوے حکام کے مطابق ہفتہ کی صبح جعفر ایکسپریس ٹرین نے 9 بجے پشاور کیلئے روانہ ہونا تھا، ٹرین ابھی تک پلیٹ فارم پر نہیں لگی تھی کہ ٹکٹ گھر کے قریب پلیٹ فارم پر زوردار دھماکہ ہوا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی دھماکے سے انسانی اعضا اور سامان بکھر گیا دھماکے سے ریلوے اسٹیشن کی چھت اڑ گئی اور نزدیکی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا دھماکے سے لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس سیکورٹی فورسز بم دسپوزل اسکواڈ کی ٹیمیں اور ایمبولینسز موقع پر پہنچ گئیں ریسکیو کے عملے نے زخمیوں اور نعشوں کو سول سنڈیمن ہسپتال کے ٹراما سینٹر پہنچایا ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر کے تمام ڈاکٹرز اور تمام پیرا میڈیکل اسٹاف نرسز اور دیگر عملے کو طلب کر لیا گیا کمشنرکوئٹہ ڈویژن محمد حمزہ شفقات نے تصدیق کی ہے کہ ریلوے اسٹیشن پردھماکا خودکش تھا خودکش بمبار سامان کیساتھ ریلوے اسٹیشن میں داخل ہوا ایسے کسی شخص کو روکنا مشکل ہوتاہے جو خودکش حملے کیلئے آئے دھماکے کی دہشت گرد تنظیم نے ذمہ داری قبول کی ہے یہ حملہ سیکورٹی فورسز پر بھی تھا زخمی سول ہسپتال میں 17اور سی ایم ایچ میں 19زیر علاج ہیں ایم ایس سول سنڈیمن ہسپتال ڈاکٹر نور اللہ موسیٰ خیل نے بتایا کہ دھماکے کی اطلاع ملنے پر ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور طبی امداد کے لیے اضافی ڈاکٹرز اور عملہ طلب کر لیا گیا جبکہ پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض نے دھماکے میں خاتون سمیت 24 مسافروں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے جانبحق ہونے والوں میں نائیک محمد شریف ، نائیک رخسار علی، سپاہی امیر حمزہ ،سپاہی عقیل، حوالدار محمد اکبر ، نائیک محمد جنید، نائیک اللہ بخش ،ندیم،نائیک نور کمال، سپاہی عرفان علی ،حوالدار شوکت علی، حوالدار منیر احمد، نائیک محمد شہباز، مدثر منیر، سمیت دیگر شامل ہیں سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر میں لائے گئے زخمیوں میں بصیر احمد، ندیم شاہ، حبیب ،جیلانی، زاہد حسین، مبشر، محمدعارف، رئیس، محمد قریش، غلام رسول، محمد الیاس، منیر ،شعیب احمد، نا معلوم، نوید احمد، ممتاز علی، نصیر احمد، حسنین، ندیم، ارسلان، نامعلوم، محمد عمران، کامران، غفور، عمران علی، اشفاق علی، مولاداد، حمید ، نامعلوم، محمد عمر،ارباب خاتون، محمد شیری، سجاول، عمران، عثمان، شاہنواز، حسن رضا، یاسر، علی ،اختیار حسنین، محمد افضل، نویداختر ،باقر، اللہ رکھا، عبدالجبار، بشیر احمد، عبدالوحید، شاہ میر وال، محمد سلیم، علی ،برال خان ، وقاص ، شاہ رخ، شامل ہیں وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اعلی حکام سے رابطہ کر کے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیاہے اور رپورٹ طلب کر لی ہے وزیر اعلی بلوچستان کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے متعدد واقعات میں ملوث عناصر تک پہنچ چکے ہیں صوبے میں دہشت گردوں کیخلاف کارروائیاں جاری ہیں متعدد واقعات میں ملوث دہشت گرد پکڑے جا چکے ہیں بلوچستان سے دہشتگردوں کا قلع قمع کریں گے۔
Comments are closed.