سپریم کورٹ میں آئینی بنچ کی تاحال تشکیل نہ ہونے پر کئی اہم سوالات اٹھنے لگے
اس وقت کوئی آئینی بینچ نہیں تو یہ جو غیر آئینی بینچ بیٹھا ہے اسکا کیا کرنا ہے،جسٹس منصور علی شاہ کے ریمارکس
اسلام آباد (آن لائن)سپریم کورٹ میں آئینی بنچ کی تاحال تشکیل نہ ہونے پر کئی اہم سوالات اٹھنے لگے۔جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اس وقت کوئی آئینی بینچ نہیں تو یہ جو غیر آئینی بینچ بیٹھا ہے اسکا کیا کرنا ہے، جب تک آئینی بنچ نہیں بیٹھے گا کیا ہم غیر آئینی ہیں؟ مطلب ہے کہ جب تک آئینی بینچ نہیں بیٹھتا آئینی مقدمات نہیں سنے جائیں گے، ہم اس کیس کو سن بھی لیں تو کوئی ہمیں پوچھ نہیں سکتا،انھوں نے یہ ریمارکس پیرکے روز سپریم کورٹ میں ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دیے ہیں اس آئینی بنچ کا تزکرہ بھی ہوا ہے۔جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔اس دوران جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ یہ کیس آئینی بینچ سنے گا ہم ریگولر بنچ سن رہے ہیں،
اس پرجسٹس منصورعلی شاہ نے کہاکہ اب بار بار یہ سوال سامنے آہا ہے کیس ریگولر بنچ سنے گا یا آئینی بنچ، اگر ہم کیس کا فیصلہ کر بھی کر دیتے ہیں تو کیا ہو گا؟ چلیں اگر ہم خود فیصلہ کر دیتے ہیں تو ہمیں کون روکنے والا ہے؟ نظر ثانی بھی ہمارے پاس آئے گی تو ہم کہہ دیں گے کہ ہمارا دائرہ اختیار ہے، آئینی مقدمات ریگولر بنچ نہیں سن سکتا وکلاء کی طرف سے بھی کوئی معاونت نہیں ارہی ہے، عقیل عباسی نے کہاکہ ابھی ہم یہ کیس سن سکتے ہیں یا نہیں، جسٹس منصورعلی شاہ نے کہاکہ تھوڑا وقت دیں تو دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ آرٹیکل 2 اے کے مطابق پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی اس کا فیصلہ کرے گی جس میں ابھی وقت لگے گا، پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی اس کا فیصلہ کرے گی کہ یہ کیا آئینی بینچ سنے گا یا ریگولر بینچ، جسٹس منصورعلی شاہ نے کہاکہ ہم آپ کی گزارش پر کوئی نقط نظر نہیں دے سکتے اسکو ملتوی کر دیتے ہیں، ہم صرف گپ شپ لگا رہے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے اورپھرکیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی۔
Comments are closed.