سکیورٹی اداروں کی کامیاب کارروائی ،پولیس لا ئنز خود کش حملے کا مرکزی سہولت کار گرفتار
گرفتار سہولت کار محمد ولی کا تعلق جماعت الاحرار سے ہے ،2019میں پولیس میں بھرتی ہوا،آئی جی پولیس
پشاور (آن لائن) قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اہم کارروائی میں پولیس لا ئنز خود کش حملے کے مرکزی سہولت کار کو گرفتار کرلیا ہے ۔ گرفتار سہولت کار کا تعلق جماعت الاحرار سے ہے ۔وہ پولیس کانسٹیبل رہ چکا ہے۔ آئی جی پولیس کے پی کے اختر حیات نے پریس کانفرنس کرتے ہو ئے کہا آج سے پونے دو سال پہلے پشاور پولیس لائنز میں خودکش دھماکہ ہو ا تھا ۔17 مارچ 2023 کو دہشت گردی نیٹ ورک کا اہم مجرم پکڑا گیا تھا ۔ انہوں نے کہاکہ اس معاملے کی مزید تحقیقات کے نتیجے میں حملے ک کے سہولت کار تک پہنچا گیا اور انسداد دہشت گردی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجے دہشت گردی نیٹ ورک کا اہم رکن پکڑا گیا جس کا تعلق فتنہ الخوارج کی ذیلی تنظیم جماعت الاحرار سے ہے۔ یہ دہشت گرد 30جنوری 2023 کی پولیس لائنز حملوں کا مرکزی کردار تھا ۔ انہوں نے کہا پشاورخودکش دھماکے کامرکزی سہولت کار پولیس کانسٹیبل محمد ولی ہے۔کانسٹیبل محمد ولی2019 میں پولیس میں بھرتی ہوا۔ پولیس میں نوکری کرتے ہوے کالعدم تنظیم کے لیے دہشتگردانہ کاروائیاں شروع کردیں۔ کانسٹیبل محمد ولی کی سب سے بڑی کارروائی پولیس لائنز پشاورکاخودکش دھماکہ ہے جس میں 101لوگ شہید اور 223 زخمی ہوے۔2021 میں کانسٹیبل محمد ولی نے افعانستان میں موجود جماعت االاحرارکے ایک کمانڈر کے ساتھ رابطہ کیا۔ اورفروری 2021 میں، براستہ کوئٹہ چمن بارڈر افغانستان گیا جہاں اس کی مالقات صالح الدین جماعت االاحرار اور مکرم خراسانی جماعت االاحرار سے ملاقات ہوئی ۔
پاکستان واپسی پر راستے میں افغان فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہوا لیکن جماعت االاحرارکے کمانڈرکی مداخلت پر رہا ہو گیا۔ دہشتگرد محمد ولی اسکے علاوہ اور بہت سی تخریبی کاروائیوں میں ملوث رہا ہے جن میں افعانستان سے خودکش جیکٹس ، ہتھیار اور دھماکہ خیز مواد کو مختلف ٹارگٹ تک پہنچانا اور ٹارگٹ کلنگ میں معاونت شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا گرفتار محمد ولی ولد باز میر خان کا پولیس میں بھرتی کے تین سال قبل 2021 میں جماعت االاحرار کے جنید نامی ایک شخص سے فیس بک آئی ڈی پر اس کا رابطہ ہوا اور اس کی ذہن سازی کے نتیجے میں وہ جماعت االاحرار میں شامل ہوا ۔ فروری 2021 میں افغانستان گیا۔اور وہاں جنید سے ملاقات ہوئی جس نے صالح الدین اور مکرم خراسانی سے اس کی ملاقات کروائی ۔ مال یوسف کے ہاتھ پر بیعت کی اور انہوں نے اسے بیس ہزار روپے دیے۔ واپسی پر اسے افغان فورسز نے ایک چوکی پر روک کر گرفتار کر لیا ،بعد میں جنید کے کہنے پر انہوں نے اسے رہا کر دیا۔ 2023 میں اسکی ڈیوٹی پولیس لائن میں تھیں، انہوں نے کہا کہ محمد ولی کا کہنا ہے کہ جنید نے اسے کہا تھا کہ کمانڈر خالد خراسانی کی شہادت کا بدلہ لینا ہے اور کچھ بڑا کام کرنا ہے۔
گرفتار مجرم کا کہنا ہے کہ جنوری 2023 کے شروع میں پولیس لائن کی تصویریں اور نقشہ جنید کے ساتھ ٹیلی گرام پر شیئر کیا۔اس کے بعد 20 جنوری کو ایک شخص کو میں نے جنید کے کہنے پر چرسیاں مسجد خیبر سے لیکر آیا اور اس کو پولیس لائن کی کروائی۔ 30جنوری کو صبح 11 بجے میں دوبارہ چرسیاں مسجد باڑہ موٹر سائیکل پر گیا وہاں وہی بندہ جیکٹ اور وردی سمیت موجود تھا۔اس کو رحمان بابا قبرستان لے کر آیا۔یہاں آکر میں نے اس کو پولیس کی وردی اور خود کش جیکٹ پہنائی اور اس کو موٹر سائیکل پر بیٹھا کر پیر زکوڑی پل جی ٹی روڈ کے قریب چھوڑ دیا۔میں خود گھر آگیا۔ اس نے جا کر ٹارگٹ پر خودکش کیا۔میں نے جنید کو ٹیلی گرام کر کے میسج کیا کہ کہ پولیس لائن مسجد میں خودکش ہو گیا ہے۔ دہشتگرد کا مزید کہنا تھا کہ اس سارے کام کا اسے دولاکھ روپے معاوضہ دیا گیا ۔ ملزم نے متعدد دیگر دہشتگر د کارروائیوں میں بھی ملوث ہونے کا اعتراف کرتے ہوے کہا جنوری 2022 میں عیسائی پادری کو پشاور میں قتل کیا، 2023 اور 2024 میں وارسک روڈ پشاور پر متعدد آئی ای ڈیز حملے کروائے، دسمبر 2023 میں گیلانی مارکیٹ میں ہینڈ گریڈ حملہ کیا، فروری 2024 میں لاہور میں موجود جماعت الاحرار کے دہشت گرد سے رابطہ کیا، لاہور میں موجود جماعت الاحرار کے دہشت گرد کا نام سیف اللہ تھا، میں نے سیف اللہ کو پستول پہنچایا جس سے اس نے ایک قادیانی شخص کو قتل کیا۔اس نے بتایا کہ مارچ 2024 میں لاہور کے فیضان بٹ سے رابطہ ہوا، فیضان بٹ کو پستول دیا جس سے اس نے دو پولیس اہلکار شہید کیے، مئی 2024 میں پشاور کے مختلف مقامات پر دھماکہ خیز مواد دہشت گردی کے لیے فراہم کیا، جون 2024 میں دہشت گرد لقمان کو خودکش حملے کے لئے جیکٹ دے کر بس پر لاہور روانہ کیا، مگر لقمان پھٹنے سے پہلے ہی پکڑا گیا، جون 2024 میں ایک اور خود کش جیکٹ باڑہ خیبر سے رحمان بابا قبرستان پہنچائی۔ محمد ولی نے مزید کہا کہ جون 2024 میں ایک اور خودکش جیکٹ موٹروے چوک پشاور میں چھپائی، ایک اور خود کش جیکٹ چمکنی پشاور میں چھپائی اور ویڈیو ثبوت جنید کو فراہم کیے، جماعت الاحرار سے ماہانہ 40 / 50 ہزار ملتے تھے، ماہانہ تنخواہ حوالہ ہنڈی کے ذریعے وصول کرتا تھا، 23 اگست 2024 جنید کے کہنے پر جمیل چوک پشاور سے دو خود کش جیکٹ لینے گیا۔
Comments are closed.