اسلام آباد(آن لائن)صدرسپریم کورٹ بار اور سیکرٹری با رکے درمیان جنگ طول پکڑگئی،صدر سپریم کورٹ بار میاں روف عطاء نے سیکرٹری سپریم کورٹ بار سلمان منصور کا گذشتہ روز کا بیان مسترد کردیا، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن میاں روف عطاء نے نیا اعلامیہ جاری کردیاہے جس میں کہاگیاہے کہ سیکرٹری سلمان منصور نے ایگزیکٹو باڈی کی منظوری کے بغیر بیان جاری کیا‘بار ایگزیکٹو کی اکثریت بیان کو مسترد کرتی ہے ،پارلیمنٹ قانون میں ترمیم یا قانون کی تنسیخ کی مجاز ہے‘ سپریم کورٹ بار 26 آئینی ترمیم کی حمایت کرتی ہے‘ سیکرٹری سلمان منصور کا سیاسی موقف کا بیان بار ایسوسی ایشن موقف کا عکاس نہیں۔سپریم کورٹ بار کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ بار کی پارلیمنٹ کی بالادستی اور قوانین کے نفاذ سے وابستگی غیر متزلزل ہے۔پارلیمنٹ قانون میں ترمیم یا قانون کی تنسیخ کی مجاز ہے‘ سپریم کورٹ بار 26 آئینی ترمیم کی حمایت کرتی ہے۔26 آئینی ترمیم انصاف کی فراہمی کی جانب ایک قدم ہے۔
سیکرٹری سپریم کورٹ بار کا کردار ریکارڈ کیپر کا ہے۔سیکرٹری بار ایگزیکٹو کمیٹی یا صدر کی ہدایات پر کام کرتا ہے۔سپریم کورٹ ایگزیکٹو باڈی نے کثرت رائے سے سیکرٹری سلمان منصور کا بیان مسترد کیا ہے۔اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ: معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ روز سیکرٹری سلمان منصور کی جانب سے 27ویں ایگزیکٹو کمیٹی کی منظوری کے بغیر پریس بیان جاری کیا گیا تھا۔ یہ غیر مستند بیان، جو کہ ایک مخصوص سیاسی موقف کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے، سپریم کورٹ بارکے موقف کی عکاسی نہیں کرتا۔ سپریم کورٹ بار آزادانہ طور پر کام کرتی ہے، کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ اتحاد نہیں کرتا، اور پریس ریلیز کے ذریعے بیرونی یا سیاسی ایجنڈوں کو فروغ دینے میں مشغول نہیں ہوتی ہے۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان بطور ایک ادارہ، اس کے صدر، میاں محمد روٴف عطا، اور 27ویں ایگزیکٹو کمیٹی، پارلیمنٹ کی بالادستی اور اس کے نافذ کردہ قوانین کی سختی سے پابندی کے لیے اپنی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کرتی ہے۔سپریم کورٹ بار پختہ یقین رکھتا ہے کہ آئین ہمارے قانونی فریم ورک کا سنگ بنیاد ہے اور پارلیمنٹ ہی واحد اتھارٹی ہے جو کسی بھی قانون میں ترمیم یا منسوخ کرنے کی مجاز ہے۔سپریم کورٹ بار حال ہی میں پارلیمنٹ کے ذریعے منظور کی گئی 26ویں آئینی ترمیم کی حمایت کرتا ہے۔
ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ قانونی چارہ جوئی اور عوام کو انصاف کی تیز اور موثر فراہمی کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ قانونی برادری کی طرف سے وسیع پیمانے پر اس ترمیم کو پارلیمنٹ کے استحقاق کی ایک جمہوری مشق کے طور پر سمجھا جاتا ہے، جوڈیشل ایکٹوازم کی صلاحیت کو روکنے کے ساتھ ساتھ عدالتی آزادی کو برقرار رکھنے کا کام کرتا ہے۔سیکرٹری کا کردار، جیسا کہ 1989 کے سپریم کورٹ بار قواعد میں بیان کیا گیا ہے، بنیادی طور پر ریکارڈ رکھنے کا ہے، جو صدر یا ایگزیکٹو کمیٹی کی ہدایت کے تحت کام کرتا ہے۔ 27 ویں ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان کی اکثریت نے سیکرٹری کی طرف سے جاری کردہ بیان کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے اور صدر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئندہ اجلاس کے ایجنڈے میں اس معاملے کو حل کریں، تاکہ قابل اطلاق قوانین اور قواعد کے مطابق مناسب اقدامات کیے جا سکیں۔واضح رہے کہ سیکرٹری بارنے صدربارکے بیان کومستردکیاتھا۔اور26آئینی ترمیم کوخلاف آئین وقانون قرار دیاتھا۔
Comments are closed.