ایک دائرے میں رہ کر احتجاج اور اختلاف رائے ہر کسی کا حق ہے،مولانا فضل الرحمن

حکومت سیاسی جماعتوں کے خلاف کاروائی کرنے کی بجائے ملک میں آمن و آمان کی صورتحال کو بہتر بنائے، اے این پی کے رہنما حاجی الیاس احمد بلور کی وفات پر تعزیت کے موقع پر میڈیا سے بات چیت

اسلام آباد(آن لائن) جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ حکومت سیاسی جماعتوں کے خلاف کاروائی کرنے کی بجائے ملک میں آمن و آمان کی صورتحال کو بہتر بنائے انہوں نے کہاکہ احتجاج اور اختلاف رائے ہر کسی کا حق ہے تاہم یہ ایک دائرے میں ہونا چاہیے۔اتوار کو پشاؤر میں اے این پی کے رہنما حاجی الیاس احمد بلور کی وفات پر تعزیت کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ حاجی الیاس بلور اس خطے کے اہم سیاسی رہنما اور معروف کاروباری و سماجی شخصیت تھے اور ہر طبقہ فکر کے ساتھ ان کی محبت سیاست سے بالاتر ہوکر تھی ان کی وفات پر ہماری جماعت اور پورے صوبے کو گہرا صدمہ پہنچا ہے انہوں نے کہاکہ اللہ پاک ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطاء فرمائے انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کے احتجاج کا ابھی علم نہیں ہے انہوں نے کہاکہ صوبے میں سیکورٹی کی صورتحال گذشتہ 15سالوں سے خراب ہے دوسری جانب بلوچستان میں بھی یہی صورتحال ہے حکومت عوام کے جان و مال اور تحفظ پر اپنی توانائیاں صرف کرنے کی بجائے صرف سیاست پر صرف کر رہی ہے جو کہ غلط بات ہے انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کو اختلاف رائے کا حق حاصل ہے تاہم اس حوالے سے بھی حدود ہوتی ہیں انہوں نے کہاکہ 26ویں ترمیم پر اختلاف رائے کے باوجود ایک ماہ تک مسلسل مذاکرات کئے اور دلائل کی بنیاد پر حکومت کو متنازعہ شقیں واپس لینے پر قائل کیا اور اس کے بعد ہم نے اس کو قبول کیا انہوں نے کہاکہ آئینی ترمیم کے بعد ایسے بل دھڑا دھڑ منظور کئے جارہے ہیں جس سے 26ویں آئینی ترمیم کی روح اور کاز کی نفی ہوری ہے یہ قابل مذمت ہے اور اس پر بھی حکومت کو نظر ثانی کرنی چاہیے انہوں نے کہاکہ اپنی سیاست کو بچانے کیلئے تو ہم بہت کچھ کرتے ہیں مگر عوام کو مطمئن رکھنے اور عوام کو حقوق دینے کیلئے اقدامات کرنے چاہیے انہوں نے کہاکہ 26ویں ترمیم سے شق نمبر 8کو نکال دیا گیا جو کہ بنیادی حقوق کے منافی تھا مگر اس کے بعد ایسے بلز منظور کئے گئے جس سے شک کی بنیاد پر کسی کو بھی گرفتار کرکے 3ماہ کیلئے پابندی سلاسل رکھا جاسکتا ہے انہوں نے کہاکہ آج ہر پاکستانی مشکوک ہوگیا ہے اور یہ بنیادی انسانی حقو ق کے خلاف ہے اگر ہم اپنے شہر میں شہریوں کو مشکوک کریں گے تو بیرونی دنیا سے کیسے گلہ کریں گے کہ وہ ہمارے شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کر تے ہیں۔۔۔۔۔

Comments are closed.