بشری بی بی کی پشاورمیں پارٹی عہدیداروں سے خطاب کی آڈیو منظر عام پر آگئی

تمام رہنماؤں کو گاڑیوں سے اندر سے ویڈیو بناکر بھیجنے، سب کے ساتھ مل کر چلنے اور مزاحمت کی کال

اسلام آباد آنے کو کمزور کرنے کی کوشش کریں گے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ خان سے اور ملک سے وفادار نہیں‘بشری کی وارننگ
اسلام آباد(آن لائن)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے بانی کی اہلیہ بشری بی بی کی پشاورمیں پارٹی عہدیداروں سے خطاب کی آڈیو منظر عام پر آگئی ہے جس میں وہ تمام رہنماؤں کو گاڑیوں سے اندر سے ویڈیو بناکر بھیجنے، سب کے ساتھ مل کر چلنے اور مزاحمت کی کال دی ہے اور کہا ہے کہ اگر آپ اس وقت خان کی اس تحریک کو یا خان نے جو حکم دیا ہے اسلام آباد آنے کو کمزور کرنے کی کوشش کریں گے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ خان سے اور ملک سے وفادار نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے لوگ جو خود پولیس کو کال کر دیتے ہیں کہ ہم فلانی جگہ پر ہیں آئیں ہمیں پکڑ لیں تو اس دفعہ یہ چیزیں نہیں چلیں گی۔ آڈیو کا متن جاری کر دیا گیا ہے جس میں سامنے آیا ہے بشریٰ بی بی کہتی ہیں کہ آپ کو وہاں سے جانا پڑا اس لیے پلیز مہربانی سے آج آپ اپنی تین آپشنز جو انہوں نے ٹیم بنائی ہو گی وہاں پہ دے دیجیے گا دوسرا کام انہوں نے یہ کہا ہے کہ جب بھی کوئی قافلہ اپنی جگہ سے ڈیسائیڈ کریں گے جدھر سے کنفرم ہو کے مین روڈ پہ جانے سے پہلے وہ ایم این اے،ایم پی اے، ٹکٹ ہولڈر، صدر،جنرل سیکریٹری ایک ویڈیو بنائے گا صرف ٹرانسپورٹ کی ویڈیو نہیں سامنے سامنے سے بنائے گا۔انہوں نے کہا ویڈیو آپ اندر سے ہر بس کی گاڑی کی بنائیں گے اندر آپ کتنی عوام لے کر آ رہے ہیں صرف ورکرز کو نہیں لانا آپ نے عوام کو بھی اپنے ساتھ شامل کر کے چوک تک پہنچنا ہے۔ پھر انہوں نے یہ کہا تھا کہ ہر قافلہ ہر ایم این اے ایم پی اے صدر جنرل سیکریٹری اپنا واٹس ایپ اگر انٹرنیٹ بند کر دیں یا سلو کر دیں کہ آپ میسیج نہ طوٴبھیج سکیں تو میسیج کے لیے آپ اپنے لڑکے تیار رکھیں جو بائیک پہ ایک دوسرے کو میسج دے سکیں۔

اپنے فون کا سسٹم میڈیا کا سسٹم اپنے ساتھ رکھیں جو انٹرنیشسل میڈیا ساتھ رکھ سکے وہ رکھے گا وہ یو ٹیوبرز یہ کہ میڈیا میں جو آپ کی مؤمنٹ ہے اسلام آباد پہنچنے تک کی اسلام آباد کی وہ عوام میں ایک ایک پل کی جانی چاہئے اور سب پھر اپنے اپنے قافلوں کی زمہ داری اٹھائیں گے آپ کے قافلے کا کوئی ورکر زخمی ہوتا ہے یا اس کے گھر کا کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو اس حلقے کے ایم این اے ایم پی اے سیکریٹری مل کے،ایسے نہیں ہو گا جیسے پہلے ہمیشہ ہوتا کہ آپ کے ورکرز چلے جاتے ہیں حلقے کے لوگوں کو پوچھتے نہیں یہ آپ کی زمہ داری ہے آپ کو ان ورکرز کا خیال بھی رکھنا پڑے گا اور ان کے گھر کو بھی دیکھنا پڑے گا۔انہوں نے ہدایت دی کہ اچھا جی بہت امپورٹنٹ بات ہے خان نے کہا ہے جس کے پاس ثبوت کے طور پر ویڈیوز نہیں ہوں گی وہ نیکسٹ ٹکٹ ہولڈر نہیں ہو گا کیونکہ آپ پچیس سال یا تیس سال پرانا ہو اس کی بہت سی جگہ ایسی ہے جہاں سے ایسے لوگ جو خود پولیس کو کال کر دیتے ہیں کہ ہم فلانی جگہ پر ہیں آئیں ہمیں پکڑ لیں تو اس دفعہ یہ چیزیں نہیں چلیں گی۔ کیونکہ یہ جو جنگ ہے صرف خان کی آزادی کی جنگ نہیں یہ ہمارے ملک کی آزادی کی ہے اور میں پہلے بھی کئی دفع کہہ چکی ہوں کہ جو لوگ کلمے کا اصل مطلب سمجھتے ہیں اصل مطلب جانتے ہیں جو اصل مسلمان ہیں۔ان کو بہت اچھی طرح پتہ ہوتا ہے ان کو سمجھانے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی کیونکہ ہر سچا کلمہ گو مسلمان ایک غیرت مند مسلمان ہوتا ہے جو غیرت مند مسلمان ہوتا ہے اس کے اندر وفا ہوتی ہے ہوتا ہے اس کو پتہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے لیڈر سے وفا اپنے اللہ اور ملک کے لیے کر رہا ہے کیونکہ ملک صرف خدا کا ہے وہ کسی کی حکمران کا نہیں ملک صرف رب کا ہے اور یہ جنگ خان او ملک کی آزادی کی جنگ ہے انٹرنیشل میڈیا جو ارینج کر سکے اسے اپنے انٹرنیشل میڈیا کو ضرور ساتھ رکھنا ہے دوسرا آپ نے لائحہ عمل تیار کرنا ہے کہ آپ نے جو خان نے ڈیسائیڈ کیا ہے وہاں تک پہنچنے تک اپنی گرفتاری نہیں ہونے دینی اور اپنے ورکرز کی بھی گرفتاری نہیں ہونے دینی یعنی کوئی ایسا لائحہ عمل تیار ہونا چاہیے جو یہ پانچ سے دس ہزار لوگ ہیں تا کہ ورکرز اور آپ کو کوئی گرفتا نہیں کر سکے دوسرا صرف خان کی نہیں ملک سے وفا کا امتحان ہے میں نے بہت سنا اگر کسی نے ٹیپو سلطان کی ہسٹری پڑھی ہو گی تو پتہ چلے گا میر صادق اور میر جعفر بنے کیسے تھے کیونکہ جب آپ کی گروپنگ شروع ہو جاتی ہے تو میر صادق اور میر جعفر سر اٹھانا شروع کر دیتے ہیں۔

اور گروپنگ جب ہوتی ہے تو نقصان کس کا ہوتا ہے ملک کا ہوتا ہے جیسے میر جعفر اور میر صادق ٹیپو سلطان کی ہسٹری میں نہ ہوتے آج مسلمان بہت سٹرونگ اور طاقت ور قوم ہوتے لیکن اس ہسٹری کی جب ٹیپو سلطان کے ساتھ سے غداری کی گئی میر صادق اور میر جعفر آئے تو وہاں سے مسلمانوں نے گرنا شروع کر دیا تو آج آپ لوگوں نے بھی یہ ڈیسائیڈ کرنا ہے کہ کیا آپ واقعی ہی کلمہ گو ہیں کیا آپ واقعی ہی اللہ اور رسول کے امتی سمجھتے ہیں وہ آپ نے شعر سنا ہے نا کہ کی محمد سے وفا یہ آپ سب کو پتہ ہے وہ کیا ہے کہ کسی کو ہماری وفا کی ضرورت ہے کبھی کسی نے سمجھا ہے کہ اس شعر میں ہے کیا وہ کام ہے کیا وہ کام یہ ہے کہ جو ان کی سنت ہے مسلمان اس پر اپنی زندگی گزارے وفا کیا ہوتی ہے اپنے اللہ اور اپنے نبی سے اپنے لیڈر سے اپنے ملک سے اپنے رشتوں سے وفا کی اس کا تعلق ایک اللہ کی ذات سے ہوتا ہے اور وفا والا انسان ہی غیرت مند کہلاتا ہے ویسے بچپن سے ہم یہ سنتے آئے اور یہ بات بھی ہے کہ پٹھان ایک ہمیشہ ایک غیرت مند اور بہادر قوم مانی جاتی ہے یہ سب کو پتہ ہے ہمیں بھی پتہ ہے سنا ہے اور خان کو صرف امید نہیں ہے یقین ہے کہ ہر ایم این اے ایم پی اے جنرل سیکریٹری اور صدر دو دو دن بھی اپنے حلقے میں لگا لیں تو آپ لوگ پانچ لاکھ لوگ کے پی سی لے کے نکل سکتے ہیں اور اگر آپ نے یہ کر لیا تو ہمیں میرا نہیں خیال کہ کوئی ہمیں ڈرا سکتا ہے اور اگر آپ کی نیت کہ اللہ اور رسول کے لیے ہے گروپنگ سائیڈ پر رکھ دیں گروپنگ ہوتی کیوں ہے اپنے آپ کو سٹرونگ کرنے کے لیے آپ اپنے آپ کو طاقت ور کرنے کے لیے اس کے علاوہ تو کوئی ضرورت نہیں ہے آپ بتائیں اس جگہ جہاں بیٹھے ہیں اس جگہ پہلے محمود خان تھے اس سے پہلے پرویز خٹک تھے جب بھی کوئی کرسی پہ آتا ہے ضروری نہیں کہ کرسی چھوٹی ہو یا بڑی کرسی کرسی ہے وہ ایک طاقت کی علامت ہے جب بھی کوئی کسی کرسی پہ آتا ہے وہ اپنی کرسی کے حرص میں اپنی طاقت کی حرص میں یہ بھول ہی جاتا ہے کہ اس کا ایک خدا ہے ہمارے سب سے بڑے لیڈر نبی کریم ہیں جن کی سنت پر ہمیں چلنا ہے اور پھر لیڈر خدا خود بناتا ہے کیونہ اس میں صلاحیت اللہ کی طرف سے ہوتی ہے ہر کوئی سیاست کرنے والا لیڈر نہیں بن سکتا اس لیے اس کی صلاحیتیں ہیں اسے لوگوں سے منسلک کرتی ہیں اور وہ ہمارے لیڈر عمران خان ہیں جب عمران خان کی قیادت ہے اس کے نیچے گروپنگ کرنے والے کو خان کا وفادار اور ملک کا وفادار نہیں کہا جا سکتا اور اس وقت اس وقت گروپنگ کی اجازت نہیں ہے۔ بشریٰ بی بی نے کہا کہ اگر آپ اس وقت خان کی اس تحریک کو یا خان نے جو حکم دیا ہے اسلام آباد آنے کو کمزور کرنے کی کوشش کریں گے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ خان سے اور ملک سے وفادار نہیں ہیں۔ میں اکثر ایک مثال دیتی ہوں کہ شاہین اور گدھ میں کیا فرق ہے۔ شاہین کی پرواز بہت اونچی ہوتی ہے اور جب اسے بھوک لگتی ہے تو وہ طاقت کے مطابق گوشت کھاتا ہے اور باقی نیچے پھینک دیتا ہے۔ یہ سمجھانے کا مقصد یہ ہے کے گدھ اور شاہین۔ گدھ کو نہ حرص ہے نہ لالچ ہے کسی بھی چیز کا ضرورت کے مطابق کھانا کھانا ہے اور باقی چھوڑ دینا ہے اور گدھ کی حرس و لالچ ہمیشہ اس کو زمین کی طرف لے جاتی ہے وہ کوشش تو کرتا ہے شاہین کے ساتھ چلنے کی لیکن وہ حرص لالچ کی وجہ سے زمین پر واپس لوٹ آتا ہے۔ آپ لوگ پٹھان ایک غیرت مند اور جہادی قوم ہے اور اس دفعہ آپ ہمیں دکھائیں گے اس دنیا کو دکھائیں گے۔
سبیلنا سبیلنا الجہاد الجہاد
سبیلنا سبیلنا الجہاد الجہاد
انقلاب آئے گا انقلاب آئے گا

Comments are closed.