اسلام آباد ( آن لائن)ملٹری کورٹ کیس کا فیصلے دینے والے سات رکنی بنچ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل موجودہ آئینی بنچ نہیں سن سکتا۔آئینی گتھی سلجھانے کے لیے ملٹری کورٹس فیصلہ کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلیو ں کی سماعت کے لیے آئینی بینچ تشکیل بارے ججز آئینی کمیٹی نے جوڈیشل کمیشن سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے بدھ کو ہونے ججزکمیٹی اجلاس کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔ترجمان سپریم کورٹ نے آئینی ججز کمیٹی اجلاس کے میٹنگ مینٹس جاری کیے ہیں جس میں بتایا گیاہے کہ ملٹری کورٹس انٹرا کورٹ اپیلوں پر گزشتہ سماعت سات رکنی بینچ نے کی۔آئینی بینچ کی رکن جسٹس عائشہ ملک انٹرا کورٹ اپیلیں نہیں سن سکتی۔جسٹس عائشہ ملک ملٹری کورٹس کیخلاف فیصلہ دینے والے بینچ میں شامل تھی۔
جسٹس عائشہ ملک فوجی عدالتوں کے کیس میں پہلے فیصلہ دے چکی ہیں، اعلامیہ میں مزید بتایاگیاہے کہ فیصلے کیخلاف انٹراکورٹ اپیلیں سات رکنی بنچ میں زیر سماعت تھیں، کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ سات رکنی آئینی بنچ ہی فوجی عدالتوں کے کیس میں اپیلیں سنے گا، جسٹس امین الدین خان کی زیرصدارت آئینی بنچ کی ججز کمیٹی کا اجلاس ہواہے جس میں فوجی عدالتوں کے کیس میں نئے بنچ کی تشکیل کیلئے جوڈیشل کمیشن سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔ آئینی بنچ کمیٹی نے کام کا بوجھ کم کرنے کیلئے سول جج کی معاونت مانگ لی، رولز فائنل ہونے تک جلد سماعت کی تمام درخواستیں آئینی بنچ کمیٹی کو پیش کی جائیں گی، سپریم کورٹ ٹھوس آئینی اور قانونی سوالات ہونے پر مقدمہ آئینی بنچ کو بھجوا سکتی ہے، ججز کمیٹی کو آئینی بنچ کیلئے سپریم کورٹ میں الگ برانچ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، مقدمات کی ایک سے دوسری عدالت میں منتقلی کا اختیار صرف سپریم کورٹ کو ہے۔
Comments are closed.