اسلام آباد (آن لائن) وزیر داخہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ عدالت کا جو بھی حکم ہو گا اس پر عملدرآمد کرائیں گے ‘ بیلا روس کا وفد آرہا ہے، جس کی سیکیورٹی اولین ترجیح ہے کسی احتجاج کی اجازت نہیں دے سکتے ۔ پی ٹی آئی سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے ، مذاکرات اور دھمکیاں ایک ساتھ نہیں چل سکتے ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے انہوں نے کہا کہ احتجاج کے حوالے سے عدالت کا جو بھی حکم ہو گا اس پر عمل کریں گے ۔ چو بیس نومبر کو بیلا روس کا وفد پاکستان آرہا ہے وفد میں میں دس وزرا بھی شامل ہیں ایسے موقع پر اسلام آباد میں کسی قسم کے احتجاج کی ا جازت نہیں دی جاسکتی ۔
احتجاج کے لئے کوئی اور جگہ بھی منتخب کر سکتے ہیں ۔ ایس سی او کے موقع پر بھی انہوں نے ایسے ہی کیا ۔ یہ لوگ کسی خاص موقع پر ہی احتجاج کی کا ل کیوں دے دیتے ہیں ۔ فیصلہ عوام نے کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پوری پوری ٹیم اس سلسلے میں متحرک ہے ۔ پی ٹی آئی سے بات چیت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ابھی کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے ۔
مذاکرات ہونے چاہیے ہم بھی مذاکرات کے حق میں ہیں لیکن دھمکیاں اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی کتے پی کے اور آئی جی سے رابطہ ضرور رہتا ہے ۔ اس کی وجہ وہاں کی سیکیورٹی صورتحال ہے کرم میں آ ج بھی اڑتیس افراد شہید ہو گئے ۔ کے پی کے بھی ہمارا صوبہ ہے ہم اسے نظر انداز نہیں کر سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں کی تعداد میں افغان شہری پاکستان میں ہیں انکے احتجاج کے دوران بھی کچھ ا فغانی پکڑے گئے یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ افغان شہری کہ افغان شہری ان کے حتجاج کا حصہ کیوں بنتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ سی ایم کے پی کے دو بار عمران خان سے مل چکے اگر یہ مذکرات کے لئے مثبت طریقہ اپناتے ہیں اور مذاکرات کا آغاز ہوتا ہے تب ہی کسی ڈیڈ لائن کی بھی بات ہو سکتی ہے ۔ ابھی انکے کافی سارے مقدمات زیر التوا ہیں فیصلہ انہوں نے خود کرنا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ رات تک کیا جائے گا ۔
Comments are closed.