احتجاج انکا حق ہے مگر عام شہریوں کا بنیادی حقوق بھی متاثر نہ ہوں، میں ایک مناسب آرڈر جاری کرونگا‘جسٹس عامر فاروق

شہر، موبائل ، دکانیں ، کاروبار بند کرنا، کنٹینرز رکھنا مسئلے کا حل نہیں، تمام معاملات کو سیاسی طور پر کیوں نہیں ڈیل کیا جارہا؟ریمارکس

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کا 24 نومبر کا احتجاج روکنے کی درخواست پر سماعت کے دوران وفاقی وزیر داخلہ سے کہاہے کہ آپ کی ذمہ داری لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال برقرار رکھناہے جبکہ چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے ہیں کہ میں ایک آرڈر کردونگا میرا پہلے والا آرڈر موجود ہے،شہر کو بند کرنا، موبائل سروس ، دکانیں ، کاروبار بند کرنا، کنٹینرز رکھنا مسئلے کا حل نہیں، ان تمام معاملات کو سیاسی طور پر کیوں نہیں ڈیل کیا جارہا؟ احتجاج کرنا پی ٹی آئی کا حق ہے مگر قاعدے قانون کے مطابق دیکھیں،جو احتجاج کررہے ہیں انکا حق ہے مگر عام شہریوں کا بنیادی حقوق بھی متاثر نہ ہوں، میں ایک مناسب آرڈر جاری کرونگا۔ وفاقی وزیرداخلہ عدالت عالیہ میں پیش ہوگئے ہیں اورعدالت کوبتایاہے کہ 24 نومبر کو بیلاروس کا ایک وفد آرہا ہے، ہر دوسرے دن ہمیں کینٹنر لگانے پڑتے ہیں، میں تفصیلات دوں گا ہم نے کنٹینر کے کرایوں کی مد میں کتنی رقم ادا کی ہے ، ہم احتجاج سے نہیں روکتے لیکن اپنے علاقوں میں کریں، پچھلی بار بھی ہمارا ایک بندہ شہید ہو گیا تھا،پچھلی بار 3 سو سے زائد افغانی بھی حراست میں لیے گئے۔ ہم نے ریڈ زون کا تحفظ کرنا ہے، میں خود بھی کنٹینرز لگانے کے بالکل خلاف ہوں، پتہ نہیں کہا جا رہا ہے کہ یہ جہاد ہے اور قبضہ کرنا ہے۔

انھوں نے یہ موقف جمعرات کے روزپیش کیاہے۔پی ٹی آئی کا 24 نومبر کا احتجاج روکنے کی درخواست پر سماعت شروع ہوئی۔چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر سماعت کی ا س دوران وزیر داخلہ محسن نقوی، آئی جی اسلام آباد، چیف کمشنر، سیکٹری داخلہ عدالت پیش ہوئے اور درخواست گزار کے وکیل راجہ رضوان عباسی،ایڈوکیٹ جنرل منور اقبال دوگل پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ پہلے بھی اسلام آباد کے احتجاج سے متعلق اسی نوعیت کی ایک درخواست آئی تھی، عام شہری کا کیا قصور ہے؟ اس صورتحال سے کیسے نمٹا جائے؟ میں عموماً وزیروں کو طلب نہیں کرتا لیکن صورتحال ہی کچھ ایسی ہے، ایک صوبے کے وزیر اعلی اس احتجاج کی سرپرستی کر رہے ہیں، میں عمومی طور پر وزرا کو نہیں بلاتا، تھینک یو منسٹر صاحب، وفاقی وزیرمحسن نقوی نے کہاکہ 24 نومبر کو بیلاروس کا ایک وفد آرہا ہے، ہر دوسرے دن ہمیں کینٹنر لگانے پڑتے ہیں، میں تفصیلات دوں گا ہم نے کنٹینر کے کرایوں کی مد میں کتنی رقم ادا کرنی یے، ہم احتجاج سے نہیں روکتے لیکن اپنے علاقوں میں کریں، پچھلی بار بھی ہمارا ایک بندہ شہید ہو گیا تھا،پچھلی بار 3 سو سے زائد افغانی بھی حراست میں لیے گئے، چیف جسٹس نے کہاکہ یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ پی ٹی آئی کو انگیج کر لیں؟وزیرداخلہ نے کہاکہ تاریخیں وہ رکھی جاتی ہیں جب باہر سے کوئی وفد پاکستان آ رہا ہوتا ہے،یہ کیا طریقہ ہے کہ احتجاج کیلئے اسلام آباد آ جائیں، چیف جسٹس نے محسن نقو ی سے کہاکہ آپ ہی یہاں Key man ہیں، آپ نے ہی فیصلہ کرنا ہے کہ کیا کرنا ہے،درخواست گزارکے وکیل نے کہاکہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ اسلام آباد پر لشکر کشی کرتے ہیں،جیف جسٹس نے کہاکہ و صورتحال ہے وزیرِداخلہ صاحب کیلئے بھی بڑی مشکل صورتحال ہے، کیا حل ہے کہ اسلام آباد کو کنٹینرز سے بند نہ کیا جائے اور کوئی اور حل ہو، وزیرداخلہ نے کہاکہ بیلاروس کے صدر پاکستان آ رہے ہیں، پورا وفد آ رہا ہے،یہ صورتحال ہو گی تو ہمارے ملک کا برا امیج جائے گا، کچھ دیر پہلے 38 لوگ شہید ہو گئے ہیں، ادھر فوکس کریں یا ادھر کریں، ہم نے ایف سی کسی ایک طرف دینی ہے فیصلہ کرنا ہے کہ کس کو دیں،میں آپ نے مکمل اتفاق کرتا ہوں، ہم نے ریڈ زون کا تحفظ کرنا ہے

، میں خود بھی کنٹینرز لگانے کے بالکل خلاف ہوں، پتہ نہیں کہا جا رہا ہے کہ یہ جہاد ہے اور قبضہ کرنا ہے، گزشتہ احتجاج کے دوران تین سو افغانی گرفتار کیے،اللہ نہ کرے کہ اس طرح کی صورتحال میں کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ ہو جائے،ہمارا پولیس کا ایک اہلکار بھی شہید ہو گیا تھا،چیف جسٹس نے کہاکہ اس حوالے سے آرڈر کرکے دوبارہ کیس فکس کریں گے، وزیرداخلہ نے کہاکہ اللہ نا کرے کہ اس طرح کی صورتحال میں کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ ہو جائے، چیف جسٹس نے کہاکہ میں ایک آرڈر کردونگا میرا پہلے والا آرڈر موجود یے،شہر کو بند کرنا، موبائل سروس بند کرنا، کنٹینرز رکھنا مسئلے کا حل نہیں، دکانیں بند کرنا، کاروبار بند کرنا، کنٹینرز رکھنا مسلے کا حل نہیں، ان تمام معاملات کو سیاسی طور پر کیوں نہیں ڈیل کیا جارہا؟ وزیرداخلہ نے کہاکہ ہم تو کوشش کررہے ہیں مگر وہاں سے جہاد کے نعرے لگائے جارہے ہیں،آخری احتجاج میں ہمارا بندا مارا گیا، ہم نے قریباً 3 سو افغانیوں کو گرفتار کرلئے تھے،چیف جسٹس نے کہاکہ میں ایک آرڈر کرونگا اور تمام فریقین کو نوٹسسز جاری کرکے بلاتا ہوں، وزیرداخلہ نے کہاکہ احتجاج کیلئے ہمیں کوئی درخواست نہیں ملی، بس اسلام آباد پر دعویٰ کرنا ہے اتنا پتہ ہے،چیف جسٹس نے کہاکہ احتجاج کرنا انکا حق ہے مگر قاعدے قانون کے مطابق دیکھیں،جو احتجاج کررہے ہیں انکا حق ہے مگر عام شہریوں کا بنیادی حقوق بھی متاثر نہ ہو، میں ایک پراپر آرڈر جاری کرونگا، ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہاکہ اگر عدالت پی ٹی آئی کو بھی نوٹس جاری کرکے بلا لے،چیف جسٹس نے کہاکہ پہلے والے آرڈر کو بھی دیکھ کر میں آرڈر پاس کر دوں گا۔ عدالت نے وزیرداخلہ سے کہاکہ آپ کی زمہ داری ہے کہ آپ لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کی میٹین کرنا ہے وزیرداخلہ نے کہاکہ آج تک انہوں نے کوئی درخواست نہیں دی۔

Comments are closed.