چو ہدری پرویزالٰہی پولیس لائن سے رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار

اسلام آباد ( آن لائن ) تحریک انصاف کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب چو ہدری پرویزالٰہی کو پولیس لائن سے رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار کرلیا گیا،ترجمان کیپٹل پولیس کے مطابق پرویز الہٰی کو تھانہ سی ٹی ڈی میں درج مقدمہ نمبر 3/23 میں گرفتار کیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے صدر کو تھانہ سی ٹی ڈی منتقل کیا جائے گا۔ پرویزالٰہی سردارعبدالرازق ایڈووکیٹ کی گاڑی میں پولیس لائنز سے باہر آئے تھے، ان کے وکیل سردار عبدالرازق ایڈووکیٹ اور ڈرائیور کو اتار کر پرویزالٰہی کو گاڑی کے ساتھ لے جایا گیا۔اس حوالے سے ان کے وکیل عبدالرازق ایڈووکیٹ نے بتایا کہ پرویزالٰہی کو عدالتی حکم پر رہا گیا تھا لیکن دوبارہ گرفتار کرلیا گیا ہے۔انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم عدالتی فیصلے کے بعد حکم نامہ لے کر چو ہدری پرویزالٰہی کی رہائی کیلئے پولیس لائنز آئے تھے۔

عبدالرازق ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ پرویزالٰہی کو پولیس لائنز کے باہر سے گرفتار نہیں گاڑی سمیت اغوا کیا گیا ہے،انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی پرویزالٰہی میری گاڑی میں بیٹھ کر پولیس لائنز سے باہر آئے تو کچھ لوگ راستہ بند کرکے کھڑے تھے۔ قبل ازیں اسلام آبادہائیکورٹ نے پرویز الٰہی کی تھری ایم پی او کے تحریری گرفتاری کا آرڈر معطل کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے ڈی سی اسلام آباد سمیت فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کیا اور پرویز الہیٰ کو بھی پیش کرنے کی ہدایت کی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے ہدایت دی کہ پرویز الٰہی آئندہ سماعت تک کسی قسم کا کوئی بیان نہیں دیں گے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ وکیل درخواست گزار کے مطابق پرویز الٰہی کیخلاف اسلام آباد میں کوئی بھی ایف آئی آر درج نہیں ہے۔چوہدری پرویز الٰہی کی ایم پی او آرڈر کالعدم قرار دینے کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کی۔وکیل پرویز الٰہی نے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ تین ماہ سے جیل میں ہیں،

وہ کیسے نقص امن کے حالات پیدا کر سکتے ہیں۔ عدالت کی ہدایت پر پرویز الٰہی کے وکیل نے تھری ایم پی او آرڈر پڑھا۔سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے وکیل نے کہا کہ پرویز الٰہی نے چار ماہ سے کوئی بیان تک نہیں دیا اور اسلام آباد میں پرویز الٰہی کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں، اینٹی کرپشن کے کیس میں مقدمے سے ڈسچارج ہو چکا، نیب کے مقدمے میں بھی لاہور ہائیکورٹ گرفتاری غیر قانونی قرار دے چکی ہے، جیسے ہی لاہور ہائیکورٹ سے رہا کیا گیا تو لاہور پولیس کی حراست سے چھین لیا گیا۔۔

Comments are closed.