نئی دہلی:بھارت میں ‘ون نیشن ون الیکشن’ یعنی پورے ملک میں قومی و ریاستی اسمبلیوں کے ایک ہی روز انتخابات کروانے کی بی جے پی سرکار کی تجویز پر اپوزیشن جماعتوں نے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ جغرافیائی ، لسانی اور مذہبی تقسیم کے حوالوں سے انتہائی پیچیدہ ریاست بھارت میں ایک ملک ایک الیکشن کی یہ تجویز نہ صرف بھارت کی اقلیتوں اور ملکی جمہوریت بلکہ عوام کی سلامتی اور امن و امان کیلئے بھی زہر قاتل ثابت ہو گی ۔
اس منصوبے کو اکھنڈ بھارت کی ایک نئی خوفناک شکل بھی قرار دیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ون نیشن ون الیکشن کا یہ جنون ہندوستان کو بڑی تیزی سے ایک ملک ایک پارٹی کی طرف لے جا رہا ہے ، بی جے پی اس گھنائونے کھیل کے ذریعے ملک کی پارلیمانی جمہوریت کو عملی طور پر صدارتی الیکشن جیسی شکل دینے جا رہی ہے ، اس صورتحال نے سب سے زیادہ اقلیتوں کے سیاسی و جمہوری حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے جس کی وجہ سے ان میں خوف و ہراس بڑھ گیا ہے ،ہندوستان میں لسانی ، جغرافیائی اور مذہبی حوالے سے اپنی جداگانہ حیثیت رکھنے والی ریاستیں بی جے پی سرکار کے حالیہ اقدامات کے حوالے سے بہت پریشان ہیں اور ان تیز رفتار متنازع فیصلوں کو بی جے پی کے منشور اور اصل منصوبے ایک ملک ایک لیڈر اور ایک قوم ایک مذہب کی طرف بڑھنے کے مترادف قرار دے رہی ہیں
بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ، بھارتی سیاست اور وہاں جاری آزادی کی تحریکوں پر گہری نظر رکھنے والے سنجیدہ فکر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی ون نیشن ون الیکشن پالیسی کے آفٹر شاکس یہ ہوں گے کہ بھارت سے آزادی کی جدوجہد کرنے والی ریاستوں کے عوام اپنی جدوجہد آزادی کے عزم میں مزید پختہ اور یکسو ہو جائیں گے کیونکہ مودی سرکار بھارت کو جس طرف لے جا رہی ہے اس کی وجہ سے اپنی جداگانہ ثقافتی ، لسانی ، مذہبی اور جغرافیائی حیثیت برقرار رکھنے کے خواہش مند عوام اور سیاسی جماعتوں کی بھارت کے اندر رہتے ہوئے بقا مزید خطرے میں پڑ جائے گی۔
بی جے پی کی مرکزی حکومت نے ملک بھر میں ایک ہی روز انتخابات کرانے کے لیے سابق صدر رام ناتھ کوند کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے , یہ کمیٹی مرکزی پارلیمان اور تمام ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات بیک وقت کرانے کے معاملے کا جائزہ لے کر حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔اس تجویز کا مطلب ہے کہ لوک سبھا کی تمام 543 نشستوں کے ساتھ ساتھ ملک کی تمام 28 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام 8 علاقوں کی اسمبلیوں کی تمام نشستوں کے لیے ایک ساتھ اور ایک روز ہی الیکشن کرائے جائیں۔سیاسی مبصرین کے خیال میں ایسے وقت میں جب کہ رواں سال میں پانچ ریاستوں مدھیہ پردیش ، راجستھان ، چھتیس گڑھ ، تیلنگانہ اور میزورام میں ریاستی اسمبلی انتخابات اور آئندہ سال پورے ملک میں پارلیمانی انتخابات ہونے ہیں ، حکومت کے اس قدم نے بہت سے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور وزیر اعظم نریندر مودی یہ معاملہ اس سے قبل بھی بار بار اٹھاتے رہے ہیں۔ 2014 کے پارلیمانی انتخابات میں اسے بی جے پی کے انتخابی ایجنڈے میں شامل بھی کیا گیا تھا۔
اس سے قبل پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں میں بھارت میں لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ ہوئے تھے۔ لیکن اس کے بعد متعدد مواقع پر ریاستی اسمبلیاں تحلیل کیئے جانے کی وجہ سے بہت سی ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات الگ الگ مواقع پر ہونے لگے۔حزبِ اختلاف کی متعدد جماعتوں نے حکومت کے اس اقدام کی مذمت کی ہے اور مودی سرکار پر قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کروانے کی سازش آگے بڑھانے کا الزام عائد کیا ہے۔کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے جنرل سیکریٹری ڈی راجہ کا کہنا ہے کہ بی جے پی ہندوستان کو ” ایک قوم ایک پارٹی ” کی طرف لے جانا چاہتی ہے اور ایک ملک ایک الیکشن اسی جنون کی طرف پہلا قدم ہے اور جب سے حزبِ اختلاف کی جماعتیں ’انڈیا‘ نامی اتحاد کے تحت اکٹھا ہوئی ہیں بی جے پی والے سخت پریشان ہیں ۔
بھارتی اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ جب سے بی جے پی برسراقتدار آئی ہے وہ ایک ملک ایک تہذیب ، ایک مذہب اور ایک ٹیکس کی بات کرتی رہی ہے۔ اور اب ایک ملک اور ایک الیکشن اور پھر ایک پارٹی اور ایک لیڈر کی بات ہو گی ۔سال 2019 میں دوسری پانچ سالہ مدت کیلئے برسراقتدار آنے کے صرف ایک ماہ بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اس معاملے پر تبادلۂ خیال کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کا ایک اجلاس طلب کیا تھا۔ لیکن اندرا کانگریس ، ترنمول کانگریس ، بہوجن سماج پارٹی ، سماج وادی پارٹی اور ڈی ایم کے نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ جب کہ عام آدمی پارٹی، تیلگو دیشم پارٹی اور بھارت راشٹر سمیتی نے اپنے نمائندے بھیجے تھے۔ تاہم اس اجلاس کے بعد عام آدمی پارٹی نے بھی اس تجویز کی مخالفت شروع کر دی تھی اور کہا تھا کہ بی جے پی کا ایک ساتھ الیکشن کرانے کا مقصد پارلیمانی نظام کو عملی طور پر صدارتی نظام نظام کی شکل دینا ہے
بہت سے قانونی ماہرین نے بھی ایک ملک ایک انتخاب کے خیال پر تشویش کا اظہار کیا ہے بھارتی سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور معروف قانون داں عبد الرحمن ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات ایک ساتھ کرانے کے لیے آئین میں ترمیم کے علاوہ عوامی نمائندگی ایکٹ اور ریاستوں کے انتخانی قوانین میں بھی ترامیم کرنا ہوں گی ، ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ پارلیمانی انتخابات میں بہت کم وقت رہ گیا ہے اور رواں سال پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، اس کے باوجود حکومت ون نیشن ون الیکشن کی بات کر رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 2021 میں مردم شماری ہونی تھی جو کہ نہیں ہوئی۔ جب تک مردم شماری نہ ہو جائے ووٹر لسٹ کی تجدید نہیں ہو سکتی۔
Comments are closed.