اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ کے آئینی بنچ میں آڈیو لیک کمیشن کیس میں بنچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اگر نیا کمیشن بنتا ہے تو یہ مقدمہ تو غیر موٴثر ہو جائے گا۔جبکہ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاہے کہ کیا حکومت کمیشن کیلئے ججز کی نامزدگیاں چیف جسٹس کی مشاورت سے کرے گی،عد الت کی اتھارٹی کو انڈر مائین ہونے نہیں دیں گے، چیف جسٹس کمیشن کیلئے جج دینے سے انکار کر دیں تو پھر کیا ہوگا؟انھوں نے یہ ریمارکس جمعرات کے روز اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے دیے ہیں انھوں نے سوال اٹھایاکہ کیا حکومت کمیشن کیلئے ججز کی نامزدگیاں چیف جسٹس کی مشاورت سے کرے گی۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ ایک قانونی سوال ہے، قانون مشاورت کا پابند نہیں کرتا۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عدالت کی اتھارٹی کو انڈر مائین ہونے نہیں دیں گے
، چیف جسٹس کمیشن کیلئے جج دینے سے انکار کر دیں تو پھر کیا ہوگا۔جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے آڈیو لیک کمیشن کیس کی سماعت کی۔جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس میں کہا کہ کیا آڈیو لیک کمیشن لائیو ایشو ہے، کمیشن کے چیئرمین ریٹائرڈ ہو چکے ہیں جبکہ کمیشن کے ایک اور رکن سپریم کورٹ کے جج بن چکے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے حکومت سے ہدایات کیلئے مہلت دے دیں، معلوم کرنے دیں کیا حکومت نیا کمیشن بنانا چاہتی ہے، آڈیو لیک کے معاملے پر قانونی نقطہ تو موجود ہے۔
جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اگر نیا کمیشن بنتا ہے تو یہ مقدمہ تو غیر موٴثر ہو جائے گا۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کمیشن کی تشکیل کا کابینہ کا فیصلہ آج بھی موجود ہے۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ کیا حکومت کمیشن کیلئے ججز کی نامزدگیاں چیف جسٹس کی مشاورت سے کرے گی۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ ایک قانونی سوال ہے، قانون مشاورت کا پابند نہیں کرتا۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عدالت کی اتھارٹی کو انڈر مائین ہونے نہیں دیں گے، چیف جسٹس کمیشن کیلئے جج دینے سے انکار کر دیں تو پھر کیا ہوگا۔آئینی بینچ نے کیس کی سماعت آئندہ ہفتہ تک کیلئے ملتوی کر دی۔
Comments are closed.