اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ عدالت کا حکم سب کے سامنے ہے ، عدالتی حکم پر مکمل عملدرآمد ہو گا اور کسی کو جلسے جلوس کی ا جازت نہیں دی جائے گی ، کسی نے دھاوا بولا تو نقصان کا ذمہ دار خود ہو گا ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے انہوں نے کہا سب نے اس وقت تک اسلام آباد ہائی کورٹ کا آرڈر پڑھ لیا ہے۔ عدالت نے واضع لکھا ہے کسی جلسے جلوس کی اجازت نہیں۔ ہم قانون پر عمل درآمد یقینی بنائیں گے۔ اور عدالتی احکامات پر کسی کو جلسے کی اجازت نہیں د ی جائے گی ۔ انہوں نے خبر دار کیا کہ اگر کوئی نقصان ہوا تو عدالتی حکم توڑنے والے ذمہ دار ہونگے ۔انہوں نے کہاکہ نہ دکان بند ہونی چاہیے، نہ کاروبار بند ہونا نہ چاہیے، نہ سڑک بند ہونی چاہیے اور نہ موبائل فون سروس بند ہونی چاہیے لیکن بتائیں ہم کیا کریں؟
پارہ چنار واقعے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہاکہ ’خیبرپختونخوا میں امن و امان کی ذمے داری صوبائی حکومت کی ہے، اس کے باوجود کہ صوبائی حکومت دھاوا بولنے آرہی ہے لیکن کل انہیں دہشت گردی کے پیش نظر ایف سی کی 15 پلاٹون چاہیے تھیں، حالانکہ ہمیں اسلام آباد میں بھی ایف سی کی ضرورت تھی لیکن ہم نے یہاں روک کر نفری وہاں بھجوائی ہے‘۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی معاونت کرنا ہمارا فرض ہے لیکن صوبائی حکومت سے بھی پوچھا جائے کہ ان کی توجہ وہاں دہشت گردی ختم کرنے پر ہونی چاہیے یا یہاں دھاوا بولنے پر ہونی چاہیے، آج وہاں ایک طرف جنازے ہورہے ہیں اور دوسری طرف دھاوا بولنے کی تیاری ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکو مت کا کام صرف معاونت فراہم کرنا ہے، 18 ویں ترمیم کے بعد امن و امان ہماری ذمے داری نہیں ہے
، جو وہ مطالبہ کرتے ہیں ہم اسے پورا کرتے ہیں لیکن امن و امان کی پہلی ذمے داری صوبائی حکومت کی ہے ۔ انہوں نے کہا اب آپ امریکہ کو سعودی عرب کو بیچ میں لے آئے۔ ایس سی او کانفرنس کو بھی روکنے کی کوشش کی گئی۔ بیلا روس کے صدر کی آمد پر احتجاج کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی ۔ انہوں نے پی ٹی آئی سے مہلت کے حوالے سے کسی بھی بات چیت کی ترد ید کرتے ہوے انہوں نے کہا دھاوا بولنے والوں سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو ں گے ۔
Comments are closed.