مسلم لیگ ن کے رہنما طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ احتجاج اور یلغار سے کسی قیدی کو رہا نہیں کرایا جاسکتا‘ ابھی اسلام آباد راولپنڈی میں ہو کر آیا ہوں، کوئی احتجاج نہیں ہوا‘پی ٹی آئی کے مقامی راہنما خود گرفتاریاں دے رہے ہیں تاکہ احتجاج کے جھنجھٹ میں نہ پڑیں، آپ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں‘ یہ نوجوانوں کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں، جب پاکستان کے آگے بڑھنے کی بات ہوتی ہے ان کو فساد یاد آ جاتا ہے‘ سعودیہ نے ہر مشکل دور میں پاکستان کی مدد کی ہے ایسے بیانات سے ملک کو مشکلات میں ڈالتے ہیں۔ یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ایس سی او کانفرنس میں دیکھا ان دنوں میں انہوں نے فتنا فساد پھیلانا چاہا، یہ 4 سال حکومت میں رہے ہیں انہوں نے کیا کیا۔آج کی جو بانی پی ٹی آئی کی کال ہے اس کے اثرات پہ بات کروں گا‘انہوں نے کہا تھا یہ اپنے مقاصد کے حصول تک یہاں بیٹھیں گے‘ابھی اسلام آباد راولپنڈی میں ہو کر آیا ہوں، کوئی احتجاج نہیں ہواپی ٹی آئی کے مقامی راہنما خود گرفتاریاں دے رہے ہیں تاکہ احتجاج کے جھنجھٹ میں نہ پڑیں۔
یہ کہہ رہے ہیں کہ راستے بند ہوئے ہیں اس سے ہمارے مقاصد پورے ہو گئے ہیں۔پھر یہ پوچھنا ہو گا کہ آپ کے مقاصد کیا تھے؟کیا آپ کا مقصد جڑواں شہروں کے رہائشیوں کے لیے مشکلات پیدا کرنا تھا۔یہ ماننے میں کوئی عار نہیں کہ کچھ جگہوں پہ شہریوں کی حفاظت کے لیے راستے بند کیے گئے ہیں‘ہمارے پاس انٹیلی جینس رپورٹس آئیں کہ ان کے پچھلے احتجاج میں پانچ گاڑیوں میں اسلحہ تھا‘بعد میں وہ گاڑیاں تحویل میں لی گئیں‘یہ کہتے تھے کہ آج کی کال اپنے لیڈر کو جیل سے چھڑانا ہے۔کیا آج تک کسی سیاستدان کو اس طرح انتشار پھیلا کر رہا کروایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے صرف بنوں میں جیل توڑ کے دہشت گردوں کو ان کے ساتھیوں نے رہا کروایا تھا ،کسی کو جیل سے رہا کروانے کے لیے عدالتوں کا سہارا لیا جاتا ہے،دوسری بات یہ کی گئی کہ اس احتجاج کے بعد ہم چھبیسویں ترمیم کو ختم کر دیں گے‘اس احتجاج کا راستہ وہاں نہیں جاتا جہاں پہنچنے کا خواب یہ اپنے نوجوان کارکنوں کو دکھاتے ہیں‘نو مئی میں بھی انہوں نے ان نوجوانوں کو جھونکا‘مجھے ان نوجوانوں اور ان کے والدین سے ہمدردی ہے۔طارق فضل چوہدری نے کہا کہ بیلاروس کا اعلی سطح وفد یہاں پہنچ رہا ہے‘کل بیلاروس کے صدر اسلام آباد آ رہے ہیں‘یہ عین اس وقت مظاہرہ کرتے ہیں جب ملک ترقی کر رہا ہوتا ہے
، کوئی دوست ملک کا لیڈر یہاں آ رہا ہو تو احتجاج اس سیاست سے ملک کا کیا فائدہ ہو رہا ہے؟انہوں نے سیاست کو آج گالی بنا کے رکھ دیا ہے۔ان کے دور حکومت میں وزرا کی ترقی کا معیار یہ تھا کہ جو زیادہ بدزبانی کرے گا اس کو اتنی ترقی ملے گی۔ ہمارا موقف ہے کہ پاکستان کے تمام سیاستدان جب تک اکٹھے ہو کر نہیں بیٹھیں گے ملک ترقی نہیں کر سکتا۔آپ مینڈیٹ کی چوری کی بات کرتے ہیں تو یہ مطالبہ ہم نے 2018 الیکشن کے بعد کیا تھا۔مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں اتحاد بنایا تھا۔مولانا فضل الرحمان اس وقت پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرنے کے خواہاں تھے ۔بعد میں ملک کی خاطر ہم نے نظام چلنے دیا۔خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی بار بار یہاں احتجاج کرنے آ جاتے ہیں۔اپنے صوبے پہ کوئی توجہ نہیں۔جو کچھ کرم ایجنسی میں ہوا انہیں وہاں جانا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی کا جو بیان سامنے آیا اس پہ غور کیا جائے ‘مدینہ شریف میں ننگے پاؤں چلنے پہ انہیں نکلوایا گیا‘ سعودیہ نے ہر مشکل دور میں پاکستان کی مدد کی ہے ایسے بیانات سے ملک کو مشکلات میں ڈالتے ہیں۔
Comments are closed.