ڈالر ذخیرہ کرنے والوں اور غیر قانونی منی ایکسچینجرز کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے فیصلے کے بعد ہی ڈالر کی قیمت گرنے لگی

اسلام آباد:ڈالر ذخیرہ کرنے والوں اور غیر قانونی منی ایکسچینجرز کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے فیصلے کے بعد ہی ملک میں ڈالر کی قیمت گرنے لگی۔

حکومت نے حوالہ ہنڈی، ڈالر ذخیرہ کرنے، غیر قانونی طریقے سے ڈالر کی خریدوفروخت اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔اس ضمن میں سرکاری اہلکاروں اور مجرمان کی سرپرستی کرنے والے افراد کا ڈیٹا بھی مرتب کیا جا رہا ہے اور فیصلہ کن کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ملک میں آئے روز ڈالر کی بڑھتی قیمت اور روپے کی گراوٹ کی اصل وجہ ایک مخصوص مافیا ہے جو ڈالر کی مصنوعی قلت پیدا کر کے بلیک مارکیٹ کو فروغ دے رہا ہے۔کریک ڈاؤن کے علاوہ کرنسی کے کاروبار کے حوالے سے اہم پالیسیاں اور قوانین کا بھی ازسر نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں زمینی، سمندری اور ہوائی اڈوں پر نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔

کرنسی کی کسی بھی طرح کی غیر قانونی نقل و حرکت روکنے کے لیے سیکیورٹی اور خفیہ اداروں کو متحرک کر دیا گیا ہے۔حکومت کے ان اعلانات اور کارروائیوں کے ساتھ ہی اوپن مارکیٹ میں ڈالر صرف 2 دن میں 18 روپے گر چکا ہے۔ڈالر کی قدر میں یہ گراوٹ ثابت کرتی ہے کہ ڈالر کو مصنوعی طریقے سے بڑھایا گیا تھا۔

Comments are closed.