اسلام آباد (آن لائن)مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر طلال چودھری نے کہا ہے کہ امید ہے تحریک انصاف کا بار بار احتجاج کی کال کا بخار اتر گیا ہو گا۔خان کی رہائی تک احتجاج برقرار رکھنے کی دعویدا ر پتلی گل سے ایسے فرار ہوئی کہ کسی کو پتہ تک نہیں چلا ۔ علی امین گنڈاپور کہتے تھے سینے پر گولی کھائیں گے لیکن پیٹھ دکھا کر بھاگ گئے۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کہ لاشوں کا پراپیگنڈا کرنے والے اپنی بزدلی کو چھپا رہے ہیں، بشریٰ بی بی نے کہا تھا جب تک بانی پی ٹی آئی رہا نہیں ہوں گے ہم نہیں جائیں گے لیکن بشریٰ بی بی پتلی گلی سے ایسی بھاگیں کہ کسی کو پتا بھی نہ چلا، آپ کتنے بزدل ہیں کارکنوں کو چھوڑ کر وہاں سے بھاگے۔ انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کہتے تھے سینے پر گولی کھائیں گے لیکن پیٹھ دکھا کر بھاگ گئے، آپ لیڈر تھے تو آگے آکر گولی کھاتے، بھاگنے والی خاصیت گیدڑوں میں ہوتی ہے لیڈروں میں نہیں، پی ٹی آئی لیڈروں کی تاریخ ہے یہ کئی دفع بھاگے ہیں، لیڈر اپنی بلٹ پروف گاڑیوں سے نہیں نکلے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف والوں نے اسلام آباد کا امن تہہ وبالا کرنے کی کوشش کی، آپ نے ہتھیار اٹھائے ہوئے تھے، آپ کے پاس آنسو گیس کے شیل اور مسلح لوگ تھے، یہ کوئی تربیت یافتہ فورس کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا، یہ لوگ افغان شہریوں کو بڑی تعداد میں ساتھ لے کر آئے، ویڈیوز میں افغان شہری، آنسو گیس کے شیل چلانے والے نظر ٓئے۔انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی مسلح لوگوں کوریاست کے خلاف اکسانے کی ترغیب دیتی رہیں، اپنی بزدلی چھپانے کیلئے لاشوں اور گولیوں کا پراپیگنڈا کر رہے ہیں، لاشیں گری ہیں لیکن رینجرز اور پولیس والوں کی، رینجرز اور پولیس والے اپنا فرض ادا کرتے شہید ہوئے، ریاست اور سکیورٹی اداروں نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا، جن لوگوں نے قانون توڑا صرف ان کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بغاوت کی وہی کوشش تھی جو 9 مئی کو کی گئی، پورے پنجاب سے آپ کے لیے کوئی نہیں نکلا، سندھ اور بلوچستان سے بھی آپ کیلئے کوئی نہیں آسکا، آپ نے صرف خیبرپختونخوا کے وسائل کیساتھ وفاق پر چڑھائی کی، وفاق پر چڑھائی کا مرکز پشاور کا وزیراعلیٰ ہاوٴس اور خیبرپختونخوا حکومت ہے۔ لوگوں کی خدمت کیلئے آپ کو ووٹ ملا ہے ، کرم میں دہشتگردی کا جو مرضی واقعہ ہو ان کو پرواہ نہیں ، وفاق پر چڑھائی کرنے صوبے کی گاڑیاں لیکر آجاتے ہیں لیکن کرم کوئی نہیں جاتا، آپ وفاق پر حملہ آور ہوئے، بانی پی ٹی آئی جب تک وکٹم ہیں یہ وکٹم کارڈ کھیلتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور تو ایسے آئے تھے جیسے بڑے فاتح ہیں، ایسے تقاریر کررہے تھے جیسے بہت بڑا انقلاب آگیا ہے، آپ سے ہمیشہ نرم رویہ اختیار کیا گیا، ریاست کے مذاکرات کی کوشش کو کمزوری سمجھنے والوں کو سبق مل گیا ہوگا کہ ریاست اور حکومت سے نہیں لڑا جاسکتا، امید ہے آپ کا بخار ٓاخری کال سے اتر گیا ہوگا۔
Comments are closed.