اسلام آباد انسداد دہشت گردی عدالت نے صحافی مطیع اللہ جان کی ضمانت منظورکرلی

اسلام آبا د(آن لائن)اسلام آباد انسداد دہشت گردی عدالت نے صحافی مطیع اللہ جان کی ضمانت منظورکرلی۔ جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ صحافت کا ستیاناس ہوگیا ہے بہت شرمندگی ہے کہ صحافی پراسیکوٹرکوکہیں کہ آپ حرام کھاتے ہیں کیا پھریہ بھی کہا جائے کہ صحافی اپنی سوچوں کوبیچتے ہیں۔انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات خرید وفروخت کیس کی سماعت کی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے آرڈر کے کاپی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا مطیع اللہ جان کے جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کی پراسس عدالت نے مکمل کیا۔

مطیع اللہ جان کے وکیل نے کہا کہ ہماری ضمانت کی درخواست بھی سن لیں۔ جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ نوٹس کر دیتے ہیں پراسیکوشن تیاری کر لے گی، اسکرینوں پرآکرصحافت کا ستیاناس ہوگیا ہے۔جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ بہت شرمندگی ہے کہ صحافی پراسیکوٹرکوکہیں کہ آپ حرام کھاتے ہیں، کیا پھریہ بھی کہا جائے کہ صحافی اپنی سوچوں کوبیچتے ہیں؟ جج نے ریمارکس دیئے کہ میں اس دن بھی کہا تھا سکرینوں پر آکر جنرلسٹ کا ستیاناس ہو گیا،ایک شخص کی ڈیوٹی ہے آپ نے نکلتے ہوئے پراسکیوٹر کو یہ کہیں آپ حرام کھاتے ہیں

،اگر آگے سے یہی جواب آئے آپ بھی اپنی سوچوں کو فروخت کر رہے ہیں، جج نے استفسار کیا کہ پراسیکیوٹر کی ویڈیو کو وائرل کر رہے ہیں آج اعزاز سید کدھر ہیں،میں توقع کر رہا تھا وہ آج معذرت کرینگے،ثاقب بشیر آپ کتنے عرصہ سے آرہے ہیں کبھی اس طرح آپ نے کیا ہے،اب آپ کچھ نہیں کہے گیں۔بعد ازاں عدالت نے مطیع اللہ جان کی درخواست ضمانت دس ہزار روپے مچلکوں کے عوض منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیدیا۔

Comments are closed.