نئی دہلی (آن لائن)امریکہ میں سامنے آنے والا اڈانی رشوت سکینڈل مودی سرکار کے لیے دن بدن شرمندگی کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھ رہی ہیں اڈانی موڈی گٹھ جوڑ نہ صرف بے نقاب ہو رہا ہے بلکہ یہ بات بھی سامنے آ رہی ہے کہ کیسے کرپشن کے خلاف گلا پھاڑ پھاڑ کر چیخنے والے مودی جی خود کرپشن سے مستفید ہوتے رہے ہیں۔مودی اور اڈانی کا کرپٹ گٹھ جوڑ امریکہ میں رشوت سکینڈل نے بی جے پی سرکار کا اصل چہرہ بینقاب کر دیا۔مودی کے قریبی ساتھی اور حمایتی گوتم اڈانی پر امریکہ میں ایک بڑے فراڈ اسکیم کے تحت کروڑوں ڈالر رشوت دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
الزام ہے کہ گوتم اڈانی نے بھارتی حکام کو 250 ملین ڈالر کی رشوت دے کر اربوں ڈالر کے ٹھیکے حاصل کیے۔امریکی اٹارنی بریون پیس کے مطابق،منافع بخش شمسی توانائی کے معاہدوں کو حاصل کرنے کے عوض بھارتی حکام کو تقریباً 250 ملین ڈالر کی رشوت دینے پر رضامندی ظاہر کی۔
بریون پیس کے مطابق اڈانی گروپ کو اس گرین اینرجی پروجیکٹ سے 20 برسوں میں دو بلین ڈالر سے زیادہ کے منافع کی امید تھی۔گوتم اڈانی نے بھارت کیدفاعی شعبوں سے لیکر میڈیا کے کاروبار میں بڑی سطح پر سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ 2023 میں بھی ہنڈنبرگ ریسرچ رپورٹ نے اڈانی پر اسٹاک میں ہیرا پھیری اور دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا تھا۔مودی سرکار اپنی انتخابی مہم کا خرچ اٹھانے والے اڈانی کے سیاہ کارنامے پر خاموش ہے جو انکے کرپٹ گٹھ جوڑ کو عیاں کرتی ہے۔سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق مودی کی خاموشی نے ثابت کیا کہ وہ کرپشن کے خلاف نہیں، بلکہ کرپشن سے مستفید ہونے والوں میں شامل ہیں۔
Comments are closed.