جو بھی ہتھیار اُٹھائے گا، وہ دہشت گرد کہلائے گا اور دہشت گردوں کا ٹھکانہ جہنم ہے ،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور
تشدد اور لڑائی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں اور مذاکرات ہی ایسے تنازعات کے حل کا واحدذریعہ ہیں اور ہم پختون روایات کے مطابق جرگے کے ذریعے اس مسئلے کو پرامن انداز میں حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ ،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور
پشاور(آن لائن)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے ہفتہ کے روز ضلع کوہاٹ کا دورہ کیا اور ضلع کرم کے معاملے پر قائم گرینڈ جرگے میں شرکت کی ۔متعلقہ ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے وزیراعلیٰ کو علاقے میں امن و امان کی تازہ صورتحال ، فریقین کے درمیان جنگ بندی اور علاقے میں پائیدار امن کے قیام کیلئے حکومتی کوششوں سمیت دیگر متعلقہ اُمور پر تفصیلی بریفینگ دی۔ وزیراعلیٰ نے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ جو بھی امن کو خراب کرے گا اس کے ساتھ دہشت گردوں والا سلوک کیا جائے ۔
صوبائی حکومت کی درخواست پر فوج علاقے میں امن کیلئے تعینات ہے ، فوج ، پولیس اور انتظامیہ مل کر علاقے میں پائیدار امن کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ علاقے میں قائم تمام کے تمام مورچے بلاتفریق ختم کئے جائیں ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن علاقے میں امن کیلئے وفاقی حکومت ایف سی کی پلاٹونز فراہم کرے ۔ گرینڈ جرگہ مکمل امن کے قیام تک علاقے میں رہے ، صوبائی حکومت ہر ممکن سپورٹ فراہم کر ے گی ۔ جولوگ علاقے میں امن خراب کر رہے ہیں ، مقامی کمیونٹی ان کی نشاندہی کرے جبکہ فریقین کے درمیان نفرت کی فضاء کو ختم کرنے کیلئے مقامی عمائدین اپنا کردار ادا کریں ۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ انتظامیہ کو ہدایت کی کہ علاقے میں لوگوں کے پاس موجود بھاری اسلحہ جمع کیا جائے جبکہ سرحدی علاقے کے لوگوں کے پاس موجود اسلحہ بھی امانتاً جمع کیا جائے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ جو بھی ہتھیار اُٹھائے گا، وہ دہشت گرد کہلائے گا اور دہشت گردوں کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔
وزیراعلیٰ نے کہاکہ علاقے کے عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کیلئے فنڈز ترجیحی بنیادوں پر جاری کئے جائیں گے اور صوبائی حکومت ان بے گھر افراد کی باعزت واپسی یقینی بنائے گی ۔اُنہوں نے کہا کہ تشدد اور لڑائی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں اور مذاکرات ہی ایسے تنازعات کے حل کا واحدذریعہ ہیں اور ہم پختون روایات کے مطابق جرگے کے ذریعے اس مسئلے کو پرامن انداز میں حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ فریقین سے اپیل ہے کہ وہ مذاکرات کا راستہ اپنائیں اور اس سلسلے میں انتظامیہ اور جرگے کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ علاقے میں پائیدار امن کا قیام ممکن ہو سکے جو علاقہ اور حکومت سمیت سب کے مفاد میں ہے۔ اراکین قومی اسمبلی شہریار خان آفریدی، حمید حسین، یوسف خان، اراکین صوبائی کابینہ آفتاب عالم خان آفریدی، پختون یار خان، بیرسٹر محمد علی سیف ، رکن صوبائی اسمبلی شفیع جان، چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری، انسپکٹر جنرل آف پولیس اختر حیات خان گنڈا پور ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد عابد مجید اور دیگر متعلقہ حکام بھی جرگے میں شریک ہوئے ۔
Comments are closed.