آزادی چاہیے تو عدلیہ کی طرف رجوع کریں ڈی چوک اور دھرنہ آپ کو آزاد نہیں کر سکتااگر ہر کوئی منہ اٹھا کر اسلام آباد کو بند کرنے کی کوشش کرے تو ایسوں کے خلاف فورس تو بنے گی ،گورنر خیبر پختونخوا
پشاور(آن لائن)ہمارے جنوبی اضلاع دہشتگردی اور دہشتگردوں کی زد میں ہیں دھرنے اور جلوس سے آزاد نہیں ہو سکتے، آزادی چاہیے تو عدلیہ کی طرف رجوع کریں ڈی چوک اور دھرنہ آپ کو آزاد نہیں کر سکتااگر ہر کوئی منہ اٹھا کر اسلام آباد کو بند کرنے کی کوشش کرے تو ایسوں کے خلاف فورس تو بنے گی ان خیالات کا اظہارگورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی پریس کلب میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ صوبے کا سب سے گھمبیر مسئلہ امن و امان ہے بہت جلد جرگہ کیلئے کوہاٹ کرم جا رہے ہیں جرگہ لے کرکل ہم کوہاٹ جائیں گے جرگہ میں مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈران شامل ہیں گورنر ہاس میں اے پی سی بلوا رہا ہوں اچھی بات ہے کہ وزیراعلی آج متاثرین کی طرف گئے، دیر آئے درست آئے 5 تاریخ کو اے پی سی میں وزیراعلی کو بھی دعوت دے رہا ہوں ہمیں امن کے معاملے میں سیاست نہیں کرنی چاہیے اسلام آباد میں جا کر آگ لگانے سے پہلے اپنے صوبے کا امن و امان بحال کریں ہمارے جنوبی اضلاع دہشتگردی اور دہشتگردوں کی زد میں ہیں دھرنے اور جلوس سے
آزاد نہیں ہو سکتے، آزادی چاہیے تو عدلیہ کی طرف رجوع کریں ڈی چوک اور دھرنہ آپ کو آزاد نہیں کر سکتاکل وزیراعلی نے جو تقریر کی اسمبلی میں وہ اس عہدے کے شایانِ شان نہیں کیا آپ نے آج تک کوئی اے پی سی بلوائی؟ کیا آپ نے کرم کے شہدا کے لیے دعا تک کروائی؟یہ لوگ ہر وقت مارا ماری کی باتیں کرتے ہیں جلوس کی قیادت کیسے یہ کر سکتے تھے، غائب ہو جاتے ہیں، ورکر گرفتار ہوتا ہے پشاور، وزیراعلی کے کنٹینر کی حفاظت انکی سیکیورٹی نہ کر سکی ان کے آپس میں شدید اختلافات ہیں اگر ہر کوئی منہ اٹھا کر اسلام آباد کو بند کرنے کی کوشش کرے تو ایسوں کے خلاف فورس تو بنے گی اگر ہر کوئی منہ اٹھا کر اسلام آباد کو بند کرنے کی کوشش کرے تو ایسوں کے خلاف فورس تو بنے گی ریاست کو چیلنج کر دیا جاتا ہے ان کی خواہش ہے کہ پاکستان ترقی نہ کرے گورنر راج لگا تو میں کیوں انکار کروں!گورنر راج اگر لگایا گیا تو لگے گا یہ حلف انہوں نے لیا تھا کہ خان کو لیے بغیر نہیں جاں گا، کیا کیا پھر! کیوں بھاگ گئے؟
Comments are closed.