اسلام آباد(آن لائن)پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن ایکٹ ترمیم کیخلاف سپریم کورٹ کے آئینی بنچ سے درخواست واپس لینے کی استدعاکرتے ہوئے موقف اختیارکیاہے کہ رجسٹرار سپریم کورٹ کے اعتراضات کودورکرکے درخواست دوبارہ دائر کرناچاہتے ہیں اس پر انھیں اجازت دے دی گئی۔آئینی بینچ کے رکن جسٹس جمال مندوخیل نے اس موقع پر ریمارکس دیے کہ آپ کی جگہ میں ہوتا تو ابھی تک دوبارہ دائر کر چکا ہوتا، جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آپ سے سیکھتے ہوئے ہم بھی ایسا ہی کریں گے۔بدھ کو سپریم کورٹ کے آئینی بنچ میں الیکشن ایکٹ ترمیم کیخلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 6رکنی آئینی بنچ نے سماعت کی،بیرسٹر گوہر کیوکیل سلمان اکرم راجا نے درخواست واپس لے لی،سلمان اکرم راجا نے کہاکہ درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات ہیں
،اعتراضات دور کرکے دوبارہ درخواست دائر کریں گے،اعتراضات دور کرنے کیلئے درخواست واپسی کی استدعا منظور کر لی گئی۔سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ درخواست ترمیمی ایکٹ پر صدر کی توثیق سے پہلے دائر کی تھی، صدر کی توثیق کے بعد ہی درخواست دائر کرنا چاہیے تھی۔واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے رواں برس 7 اگست کو الیکشن ایکٹ ترمیمی بل کے خلاف 184/3 کی آئینی درخواست بیرسٹر سلمان اکرم راجہ کی وساطت سے دائر کی تھی۔ درخواست میں وفاق اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا تھا۔بیرسٹر گوہر نے اپنی درخواست میں سپریم کورٹ سے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی۔ درخواست میں موٴقف اختیار کیا گیا کہ الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستیں دوسری سیاسی جماعتوں کو الاٹ کرنے سے فوری طور پر روک دیا جائے۔درخواست میں کہا گیا کہ تحریک انصاف مخصوص نشتوں کی فہرستیں الیکشن کمیشن جمع کرا چکی ہے، سپریم کورٹ کے 12 جولائی کے فیصلے کے بعد مخصوص نشستیں تحریک انصاف کا حق ہیں لہٰذا خواتین و غیرمسلم کی مخصوص نشستیں تحریک انصاف کو الاٹ کرنے کا حکم دیا جائے۔
Comments are closed.