روس کے ساتھ خام تیل کی خریداری کیلئے کوئی معاہدہ نہیں ہوا،مصدق ملک

ٹرمپ ایڈمنسٹریشن سے ایران گیس پائپ لائن پر رعائت لینے کی کوشش کریں گے
سعودیہ کے ساتھ حالیہ دورے میں 34 معاہدے طے ہو چکے ہیں، ان 34 معاہدوں کی مالیت 2.8 ارب ڈالر ہے
ڈیریگولیشن سے قیمتوں میں کمی کا فوری فائدہ عوام تک پہنچے گا‘ وفاقی وزیر پٹرولیم کی صحافیوں سے گفتگو
اسلام آباد(آن لائن)وفاقی وزیر پٹرولیم مصدق ملک نے کہا ہے کہ روس کے ساتھ خام تیل کی خریداری کیلئے کوئی معاہدہ نہیں ہوا،ایک سبسڈری بنا کر تیل امپورٹ کرنے کا آئیڈیا تھا جو مکمل نہیں ہو سکا،ٹرمپ ایڈمنسٹریشن سے ایران گیس پائپ لائن پر رعائت لینے کی کوشش کریں گے، ڈیریگولیشن سے قیمتوں میں کمی کا فوری فائدہ عوام تک پہنچے گا‘ سعودیہ کے ساتھ حالیہ دورے میں 34 معاہدے طے ہو چکے ہیں، ان 34 معاہدوں کی مالیت 2.8 ارب ڈالر ہے۔ یہاں صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا کہ روس کے ساتھ خام تیل کی خریداری کیلئے کوئی معاہدہ نہیں ہوا، گزشتہ بار جب تیل خریدا تھا تو کوشش تھی پبلک سیکٹر کمپنی کے ذریعے خریدا جائے گا،ہم چاہتے تھے کہ ریفائنریز کو تیل انٹرنیشنل مارکیٹ کی قیمت پر دیں

، ایک سبسڈری بنا کر تیل امپورٹ کرنے کا آئیڈیا تھا جو مکمل نہیں ہو سکا۔ مصدق ملک نے کہا کہ پہلے کارگو کے بعد پی آر ایل کی جانب سے روس سے تیل نہیں منگوایا گیا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ڈیریگولیشن کیلئے فریم ورک بنایا جا رہا ہے، ڈیریگولیشن سے قیمتوں میں کمی کا فوری فائدہ عوام تک پہنچے گا، ڈیریگولیشن فریم ورک کی منظوری وزیراعظم دیں گے۔ مصدق ملک نے کہا کہ ہمارے پاس ایل این جی وافر ہے، ہم کوئی نیا کارگو نہیں منگوا رہے،قطر 35 فیصد اضافی سپلائی دے رہا ہے، اضافی سپلائی کے باعث ایل این جی کی قیمتیں انٹرنیشنل مارکیٹ میں کم ہوئی ہیں، ہمارے پانچ کارگوز ڈفر ہو چکے ہیں، آئندہ سال تک مزید پانچ کارگوز ڈیفر کر دیں گے۔ مصدق ملک نے کہا کہ کمپنیوں کے بورڈز میں تعیناتی کیلئے 40 لوگوں کو شارٹلسٹ کیا گیا ہے،کسی بھی بورڈ میں سیاسی تعیناتیاں نہیں کی جائیں گی، وزیراعظم کی اپروول کے بعد بورڈ ممبران تعینات کر دیئے جائیں گے۔مصدق ملک نے کہا کہ ٹرمپ ایڈمنسٹریشن سے ایران گیس پائپ لائن پر رعائت لینے کی کوشش کریں گے،

اگر ہمیں کسی بھی طرح رعائت مل جاتی ہے تو ہمارے لیے اچھا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پی آر ایل اور سعودی کمپنی کا 1.7 ارب ڈالر کا معادہ طے پا گیا ہے، گرین فیلڈ ریفائنری منصوبے پر دوبارہ فیزیبلٹی رپورٹ جمع کرائیں گے،24 دسمبر تک فیزیبلٹی رپورٹ کا ڈرافٹ ہمیں مل جائے گا، گرین فیلڈ ریفائنری منصوبہ میں 8 سے 10 ارب کی سرمایہ کاری ہو گی، بہت سی سعودی کمپنیاں مائننگ کے شعبے میں دلچسپی رکھتی ہیں،انہوں نے بتایا کہ سعودیہ کے ساتھ حالیہ دورے میں 34 معاہدے طے ہو چکے ہیں، ان 34 معاہدوں کی مالیت 2.8 ارب ڈالر ہے۔

Comments are closed.