راولپنڈی (آن لائن) انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے تحریک انصاف کے سابق چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ سمیت 120 ملزمان کے خلاف جی ایچ کیو حملہ کیس میں تحریک انصاف کے رہنما و اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی جانب سے دائر بریت کی درخواست خارج کردی ہے اور ان مقدمات میں نامزد ملزمان کو تاخیر سے پیش کرنے پر ریجنل پولیس افسر (آر پی او) راولپنڈی کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے آج (بروز جمعرات) جواب طلب کرلیا ہے عدالت نے سماعت کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرنے سے متعلق دونوں درخواستوں کی سماعت بھی آج (بروز جمعرات) تک ملتوی کردی ہے جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمر ایوب نے ڈاکٹر بابر اعوان ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر بریت کی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ انہیں بے بنیاد طور پر محض انتقامی کاروائی کے تحت مقدمہ میں نامزد کیا جارہا ہے حالانکہ نہ تو ان کی موقع پر موجودگی کے شواہد موجود ہیں اور نہ ہی بالواسطہ یا بلا واسطہ ان کا اس کیس سے کوئی تعلق ہے ایسے ہی ایک کیس میں انسداد دہشت گردی عدالت سرگودھا نے ان کو بری کر دیا ہے جس پر سرکاری وکیل ظہیر شاہ نے درخواست کی مخالفت میں موقف اختیار کیا کہ عدالت شیخ رشید، شیریں مزاری اور عمر تنویر بٹ کی بریت کی درخواستیں پہلے ہی خارج کر چکی ہے
لہٰذا عمر ایوب کی بریت کی درخواست کو بھی خارج کیا جائے کیونکہ عمر ایوب کو عمر تنویر بٹ، واثق قیوم عباسی اور صداقت عباسی کے اقبالی بیان میں نامزد کیا گیا تھا جب تک یہ شہادت عدالت میں پیش نہیں کی جاتی عدالت بریت اور شہادت استغاثہ پر فیصلہ نہ دے سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انسداد دہشت گردی عدالت سرگودھا کے فیصلے کو بھی ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ میں چیلنج کیا گیا ہے عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد بریت کی درخواست خارج کردی اس موقع پر عدالت نے 24 نومبر کے احتجاج سمیت مختلف مواقع پر گرفتار ملزمان کو تاخیر سے پیش کرنے پر برہمی کا اظہار کیا اور آر پی او راولپنڈی کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے تحریک انصاف کے وکلا کی جانب انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 23 کے تحت عدالتی دائرہ اختیار چیلنج کرنے کے لئے دائر 2 الگ الگ درخواستوں کی سماعت بھی عدالتی وقت ختم ہونے کے باعث آج (بروز جمعرات) تک ملتوی کردی ہے ان درخواستوں میں موقف اختیار کیا ہے کہ عدالت کا ادارہ اختیار ہی نہیں ہے کہ وہ جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کرے مقدمہ میں دہشت گردی کی جو دفعات لگائی گئی ہیں وہ بنتی ہی نہیں کیونکہ جائے وقوعہ پر نہ تو کوئی قتل عام ہوا نہ عمارتوں کو اڑایا گیا اس طرح جو دفعات لگائی گئی ان دفعات کے تحت عدالت کا دائرہ اختیار نہیں کہ وہ سماعت کر سکے۔ یاد رہے کہ جی ایچ کیو حملہ کیس میں پولیس کی جانب سے عدالت میں پیش کئے گئے چالان میں حملے کا اصل محرک تحریک انصاف کے سابق چیئرمین کے علاوہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور، سابق وفاقی وزراء اور تحریک انصاف کی مرکزی، صوبائی اور مقامی قیادت کو قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آئی ٹی لیب سے سوشل میڈیا پر جاری آڈیو ویڈیو پیغامات، جی ایچ کیو کی جیک برانچ سے حاصل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیجز اور ڈیوٹی پر تعینات فوجیوں کے بیانات کی روشنی میں ناقابل تردید شواہد کے ساتھ چالان مرتب کیا گیا ہے۔
چالان کے مطابق تحریک انصاف کے سابق چیئرمین کے سوشل میڈیا پر بیانات نے تحریک انصاف کے کارکنوں کو فوج کے خلاف اشتعال دلایا کہ کارکنان ہر ممکن غیر قانونی اقدام اٹھائیں اور جتھوں کی صورت میں ایسی کاروائی کریں کہ اعلیٰ عسکری قیادت اور وفاقی و صوبائی حکومت استعفیٰ دینے پر مجبور ہوجائے اس طرح ملکی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی سیاسی جماعت نے کالعدم تحریک طالبان اور اس جیسی دہشت گرد تنظیموں کی طرح ریاستی و عسکری اداروں پر مکمل کوآرڈی نیشن کے تحت ٹارگٹڈ حملے کئے جس کے ناقابل تردید شواہد پیمرا، ایف آئی اے اور دیگر ذرائع سے حاصل کئے گئے چالان میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے سابق چیئرمین کے سوشل میڈیا پر بیانات نے تحریک انصاف کے کارکنوں کو فوج کے خلاف اشتعال دلایا کہ کارکنان ہر ممکن غیر قانونی اقدام اٹھائیں اور جتھوں کی صورت میں ایسی کاروائی کریں کہ اعلیٰ عسکری قیادت اور وفاقی و صوبائی حکومت استعفیٰ دینے پر مجبور ہوجائے جس سے 9 مئی کا سانحہ رونما ہوا۔
Comments are closed.