پی پی اور مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے ساتھ جو زیادتیاں ہوئی ہیں اس کی بھی غیر جانبدار انکوائری کرائی جائے‘ سینیٹر سیف اللہ ابڑو
جن کو کل تک میر جعفر اور میر صادق کہا آج پی ٹی آئی ان سے آزادی مانگ رہی ہے کوئی شرم ہوتی ہے‘سینیٹر خلیل سندھو
اسلام آباد(آن لائن) ایوان بالا میں پی ٹی آئی اراکین نے 26نومبر کے واقعات کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کہتے ہیں کہ پی پی اور مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے ساتھ جو زیادتیاں ہوئی ہیں اس کی بھی غیر جانبدار انکوائری کرائی جائے۔سوموار کو سینیٹ اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے 26نومبر کے واقعات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ڈی چوک کے حوالے سے اس ایوان کے اراکین پر مبنی ایک کمیٹی بنائیں اور اس میں پی ٹی آئی کے کسی بھی رکن کو شامل نہ کریں‘بانی پی ٹی آئی کی دشمنی میں آپ لوگوں نے ہر حد عبور کر لی ہے‘جو کہتے ہیں کہ گولی کہاں چلی ہے اس پر افسوس ہے انہوں نے کہاکہ جتنے بھی سیاسی افراد کو جیلوں میں ڈالا گیا ہے اس حوالے سے بھی ایک کمیٹی بنائیں جو بھی ذمہ دار نکلا اس کی سب مل کر مذمت کریں گے
انہوں نے کہاکہ بتایا جائے کہ زرداری کو جیل میں ڈالنے کا ذمہ دار کون تھا؟ ہر چیز ہمارے کھاتے میں نہ ڈالا جائے انہوں نے کہاکہ جو بھٹو صاحب کے قاتل تھے اس کی سب ملک کر مذمت کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ ن لیگ کی لیڈر شپ کے ساتھ جو ظلم ہوا ہے اس کی بھی انکوائری کراتے ہیں سینیٹر خلیل سندھو نے کہاکہ پی ٹی آئی کس چیز کی آزادی مانگ رہی ہے جن کو کل تک میر جعفر اور میر صادق کہا جارہا تھا اس ان سے آزادی مانگی جارہی ہے کوئی شرم ہوتی ہے انہوں نے کہاکہ جو معاملات عدالت میں ہیں اس پر بات نہ کریں مگر یہ بتائیں کہ وزیر اعلیٰ کیوں بھاگے ہیں انہوں نے کہاکہ اگر حوصلہ اور جرات نہیں تھی تو کیوں آئے تھے سینیٹر ذیشان خانزادہ نے کہاکہ ڈی چوک کا اصل واقعہ 26 نومبر کا ہے اور شہدا کیلئے افسوس کا اظہار کرتا ہوں اس روز ہمارے علاقے سے بھی ایک شہید صدر علی ہے جس کی اہلیہ اور بچے پوچھتے ہیں کہ صدر علی کو کس نے مارا ہے اور یہی سوال میں بھی اس ایوان میں سب سے پوچھنا چاہتا ہوں
انہوں نے کہاکہ جو لوگ احتجاج کرنے آئے تھے ان کے دو مطالبے تھے ایک یہ کہ 8فروری کے انتخابات کے حوالے سے جوڈیشیل کمیشن بنایا جائے مگر حکومت اس مطالبے کو تسلیم نہیں کر رہی ہے انہوں نے کہاکہ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہاکہ پی ٹی آئی کے دور میں بھی سیاسی کیسز بنائے گئے تھے اورخود بانی پی ٹی آئی پر کیسز بنانے سے انکار کرتے ہیں حکومت بتائے کہ پوری دنیا میں یہ آواز کیوں اٹھ رہی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے انہوں نے کہاکہ عدت کا کیس اس کی بڑی مثال ہے۔ انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے جن لوگوں کو فارم 47کے ذریعے ہرایا گیا تھاان کو انصاف نہیں مل رہا ہے تو وہ کہاں جائیں انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی ایک پرامن جماعت ہے آج جس مقام پر ہم کھڑے ہیں وہ اس وجہ سے ہے کہ ہمیں نہ تو آئینی حق دیا جارہا ہے اور نہ ہی قانونی حق دیا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ جن شرپسندوں کے خلاف میڈیا پر اشتہارات چلائے جارہے ہیں ان کا پی ٹی آئی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے حکومت ہمارے بانی اور کارکنوں کو بدنام کرنے کیلئے اقدامات نہ اٹھائے جب تک بانی پی ٹی آئی زندہ ہے اس وقت تک پی ٹی آئی کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہے۔ایوان بالا کا اجلاس جمعرات کے روز تک ملتوی کردیا گیا۔۔۔۔اعجاز خان
Comments are closed.