مذاکرات میں حکومت کے لوگ رکاوٹ ہیں،خورشید احمد شاہ

اسلام آبا د(آن لائن)پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ فیض حمید پر جو الزامات ہیں عمران پر بھی ان کا اثر ہے،دونوں پر ریاست کو نقصان پہنچانے کے ایک جیسے بڑے الزامات ہیں،ایک انٹرویو میں سید خورشید شاہ احمد نے کہا کہ فوج اپنے تھری اسٹار جنرل کو نہیں چھوڑ رہی تو ان الزامات میں عمران کا بچنا بھی بڑا مشکل ہو گا،نہ وزارتیں لے رہے نہ بلاول وزیراعظم بن رہے، خورشید شاہ نے تمام قیاس آرائیوں کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ عوام کے ووٹ سے آئیں گے، پیپلز پارٹی کوبھیک میں اقتدار،زیراعظم نہیں چاہیے، بلاول وزیراعظم تب بنیں گے جب پچیس کروڑ عوام ووٹ سے منتخب کریں گے،ن لیگ پر افسوس ہوتا وہ پیپلز پارٹی کی چھوٹی چھوٹی چیزیں برداشت کرنے کے لیے تیارنہیں، وہ ہمیں وزارتوں میں کیسے برداشت کریں گے، یہ بڑا مشکل ہے، ہم نے نظام، جمہوریت، سیاسی استحکام کے لیے ن لیگ کی حکومت کا ساتھ دیا ہے،ن لیگ ایک سو بیس نشستوں کے ساتھ نظام نہیں چلا سکتی تو ہم ستر کے ساتھ کیسے چلا سکتے،خوشی سے چاہیں گے کہ مولانا اڈیالہ میں خان کے پاس جا کر ملے، عمران خان نے چار سال پارلیمنٹ میں مولانا کی کلاس لی ہے، عمران نے کس کس اسٹائل میں مولانا کی کلاس نہیں لی، کیا کیا الزامات نہیں لگائ

ے،اب عمران کہہ دے کہ وہ سب جھوٹ تھا، معافی چاہتا ہوں، اسی طرح مولانا کہہ دے عمران ٹھیک ہے، میں اس کے خلاف عالم دین ہو کر جھوٹ بولتا رہا،مولانا بڑے سمجھدار ہیں، سیاست کو اچھی طرح سمجھتے ہیں، وہ یہ نہیں کریں گے،کوشش ہے مدارس کا ایشو پارلیمنٹ میں ہی حل ہوجائے،پی ٹی آئی پہلے مذاکرات کیلئے تیار نہیں تھی اب مذاکرات کی بات کرتی ہے،ایک طرف مذاکرات کی بات تو دوسری طرف تنقید بھی ہو رہی، کسی حالت میں بھی مذاکرات ہوتے تو ہونے چاہیے، پیپلز پارٹی ہمیشہ مذاکرات پر یقین رکھتی ہے، عمران خان آتا ہے مذاکرات پر تو دیر آید درست آید مگر وہ بیٹھے تو سہی،مذاکرات کا پریشر فیس سیونگ کے لیے ہے، مذاکرات میں حکومت کے اپنے لوگ بھی رکاوٹ ہیں، گذشتہ روز ایک جگہ بیٹھے تھے، تجویز آئی کہ حکومت کے ارکان کی عمران سے میٹنگ کروا دیتے،سید خورشید شاہ نے انکشاف کیا کہ ایک سمجھدار سیاستدان نے کہا، ہم چلتے ہیں، بات کرنے کے لیے تیار ہیں،ان کا موقف تھا ہم یہ کیوں کہیں کہ بات نہیں کرنی، ہمیں بات کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں۔لیکن مذاکرات میں حکومت کے اپنے لوگ بھی رکاوٹ ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ معاملات ایسے ہی چلتے رہیں اور ان کی دکان چلتی رہے۔

Comments are closed.