غیر آئینی کاموں کی وجہ سے سرمایہ کاری نہیں ہو رہی، پی آئی اے کی بولی 85 ارب کے بجائے 10 ارب روپے لگی، اپوزیشن لیڈر
ہری پور(آن لائن)قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا ہے کہ اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو سول نا فرمانی کی تحریک شروع کریں گے، بیرون ملک سے آنے والے زرمبادلہ بند کرنے کا کہیں گے۔ہری پور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے مذاکراتی کمیٹی نیک نیتی سے بنائی تھی، اب حکومت نے بھی مذاکراتی کمیٹی بنا دی ہے۔عمر ایوب حان نے کہا کہ ہمارامطالبہ ہے 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشنل کمیشن بنایا جائے، اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو سول نا فرمانی کی تحریک شروع کریں گے۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ہم بیرون ملک سے آنے والے زرمبادلہ بند کرنے کا کہیں گے، فوجی عدالتوں سے ہمارے ورکرز کو غیر آئینی طور پر سزا دی گئی، فوجی عدالتوں سے سزا کی اجازت سپریم کورٹ کے اختیارات سے تجاوز ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ غیرآئینی کاموں کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری نہیں ہو رہی، انہی اقدامات کی وجہ سے پی آئی اے کی بولی 85 ارب کے بجائے 10 ارب روپے لگی۔ادھر نجی ٹی وی سے گفتگو میں عمر ایوب خان نے کہا کہ دیکھنا ہوگا مذاکرات کو لے کر حکومت کی سنجیدگی کتنی ہے۔دورانِ گفتگو عمر ایوب سے سوال کیا گیا کہ مذاکراتی کمیٹی سے متعلق کیا کہیں گے؟انہوں نے کہا کہ ہمارے مطالبات حکومت کے سامنے ہیں، ڈیمانڈ آئی تو اس پر سوچیں گے، دیکھنا ہو گا یہ کمیٹی بااختیار ہے یا نہیں۔عمر ایوب کا کہنا ہے کہ بانء پی ٹی آئی نے کمیشن بنانے کا مطالبہ سامنے رکھا ہے
۔ پی ٹی آئی کے رہنما سے سوال کیا گیا کہ کیا کمیٹی کی تشکیل کے بعد سول نافرمانی کی تحریک وقتی طور پر موجود ہو سکتی ہے؟عمر ایوب خان نے کہا کہ تحریک سے متعلق تمام فیصلوں کا اختیار بانی پی ٹی آئی کو حاصل ہے، تحریک سے متعلق حتمی فیصلہ یا کال کی واپسی کا اختیار بانی پی ٹی آئی کا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بانء پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد ہی اس پر کوئی مؤقف یا رائے دی جا سکتی ہے۔
Comments are closed.