پاکستانی قوم کو جوہری پروگرام بہت عزیز ہے اس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، شہباز شریف

امریکی پابندیوں کو بلاجواز ، پاکستان کا جوہری پروگرام جارحیت کے لئے نہیں بلکہ دفاع کیلئے ہے، وزیراعظم
ملک سے دہشتگردی کا سر کچلنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ،بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے، کابینہ اجلاس سے خطاب
اسلام آباد (آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی پابندیوں کو بلاجواز قرار دیتے ہوے کہا ہے کہ پاکستان کا جوہری پروگرام جارحیت کے لئے نہیں بلکہ دفاع کے لئے ہے ۔ قوم کو یہ پروگرام بہت عزیز ہے اس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ ملک سے دہشتگردی کا سر کچلنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ، پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے ملکی مفاد میں نتائج کی امید ہے ، بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے ۔ کابینہ اجلاس سے گفتگو کرتے ہوے انہوں نے کہا بد قسمتی سے ملک میں حالیہ دنوں میں دہشتگردانہ حملوں میں اضافہ ہو ا ہے ۔ حالیہ دہشتگردانہ حملوں میں سترہ اہلکار شہید ہوے ۔ اجلاس میں شہدا کے ایصال ثواب کے لئے دعا بھی کی گئی ۔ سیکیورٹی فورسز نے آٹھ کو خوارج کو جہنم رسید کیا ۔

سپہ سالار خود گئے اور شہدا کے خاندانوں کا حوصلہ بڑھایا ۔ انہوں نے کہا دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک ملکی ترقی کے لئے کاوشوں کے ثمرات سے عوام مستفید نہیں ہو سکیں گے ۔ اس ناسور کے خاتمے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا نا ہوں گے ۔ جب تک دہشتگردی کا سر نہیں کچلا چین سے بیٹھیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کے پی اور بلو چستان میں دہشتگردی کے مختلف عوامل ہیں ۔ صوبائی حکومت اسلام آباد پر چڑھائی کے بجائے پارہ چنار پر ہونے والی دہشتگردی پر اپنی توانائی صرف کرتی تو اتنا جانی نقصان نہ ہوتا ۔ یہ وہ چیلنجز ہیں جن کا ہمیں مقابلہ کرنا ہے ۔ انشاللہ ملکر اس ناسور کا خاتمہ کریں گے ۔ اور پاکستان سرخرو ہو گا ۔ شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ۔ وزیراعظم نے امریکی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوے ہوے کہا کہ نیشنل ڈیفنس کمپلیکس اور دیگر اداروں اداروں پر پابندیا ں بلا جو از ہیں ہیں ۔ ہمارا جوہری پروگرام جارحیت کے لئے نہیں دفاع کے لئے ہے ۔ دفتر خارجہ نے امریکی پابندیوں کے معاملے پر جامع جواب دیا ہے ۔ انہوں نے کہا جوہری پروگرام چوبیس کروڑ عوام کا ہے ۔ جو قوم کو بہت عزیز ہے اور پر یکسو اور متحد ہے ۔ جوہری پرو گرام پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا ۔ ۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کو مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوے انہوں نے کہا حکومتی اور پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان پہلی میٹنگ ہو چکی ۔ دو سری میٹنگ آئندہ ماہ ہو گی ۔ پوری امید ہے کہ نتائج ملکی مفاد میں ہوں گے ۔ انہوں نے کہا قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ ذاتی مفاد کو قو می مفاد کے تابع کریں ۔

گفت وشنید سے ہی ملک میں امن و سکون آئے گا ۔ ترقی کا پہیہ تیزی سے گھومے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی کی نیت پر شک نہیں امید ہے بات چیت کامیاب ہو گی اور اس کے نتیجے میں معاشی ا ستحکام آئے گا ۔ انہوں نے کہا ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے ۔ سٹیٹ بنک کا پالیسی ریٹ کی شرح پندرہ فیصد سے کم کر کے تیرہ فیصد تک لانا ، مہنگائی کی شرح میں کمی ، برآمدات ، ترسیلات ، آئی ٹی برآمدات میں اضا فہ ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ ہمارے تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے ۔ ڈاکٹر یونس کے ساتھ قاہرہ میں ملاقات مفید رہی۔ دونوں ممالک کی جانب سے خیر سگالی کے کچھ اقدامات بھی اٹھائے گئے ہیں ۔ تاہم یہ سب چیزیں اسی وقت ملک کے بہترین مفاد میں ہوں گی جبپوری قوم ملکی مفاد کے معاملات پر متحد ہو گی ۔ انہوں نے کہا قومی یکجہتی اور اتحاد کو فروغ دینے سے ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے لئے اپوزیشن کو بھی مثبت رویہ اپنانا ہو گا تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ۔ دونوں پارٹیاں # لچک دکھائیں گی تو ہی اچھے نتائج سامنے آئیں گے ۔

Comments are closed.