اسلام آباد(آن لائن)پاکستان سمیت دنیا بھر میں مسیحی برادری کرسمس کا تہوار 25دسمبر بدھ کوجوش و خروش سے منائے گی،جہانیاں سمیت ملک بھر میں مسیحی برادری کے زیر اہتمام مذہبی تقریبات کا انعقاد اور ملکی ترقی اورخوشحالی کے لیے دعائیں مانگی جائیں گی۔تفصیلات کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر میں مسیحی برادری 25دسمبر بروز بدھ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے یوم ولادت کے سلسلے میں کرسمس کا تہوار منائے گی۔ ملک کے دیگر شہروں میں کرسمس کے موقع پر تقریبات منعقد کرکے ملکی ترقی اورخوشحالی کے لیے دعائیں مانگی جائیں گی۔کرسمس ٹریز کی تیاری کے ساتھ ساتھ تمام چرچز کو انتہائی خوبصورتی سے سجا دیا گیا ہے۔
کرسمس کی مناسبت سے گرجا گھروں میں خصوصی عبادات اور دعائیہ تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا جہاں مسیحی برادری کے افراد اپنی مذہبی تقریبات کی ادائیگی اور عبادات کریں گے،اس موقع پر ملکی ترقی، قیام امن اور سلامتی و خوشحالی کی خصوصی دعائیں مانگی جائیں گی۔ جبکہ مرد وخواتین اور بچوں نے مذہبی تہوار کے حوالے سے خریداری بھی کی۔اس موقع پر نت نئے انداز، رنگوں اور ڈیزائنوں کے کیکس، چاکلیٹس اور کنڈیز بھی تیار کرلی گئیں ہیں، مسیحی برادری کا کہنا ہے کہ کرسمس خوشیوں کا تہوار ہے۔ یہ امن اور محبت کا پیغام دیتا ہے، میٹھا کھانے سے خوشی کا احساس دوبالا ہوجاتا ہے۔واضح رہے کہ مسیحی برادری حضرت عیسٰی علیہ السلام کی ولادت کی خوشی میں ہرسال 25دسمبر کو کرسمس کا تہوار مناتی ہے ۔
اس دن کو یسوع مسیح کی دنیا میں آمد کو امن و خوشی کے دن کی بشارت کی یاد تازہ کرنے کے لئے منایا جاتا ہے۔ کیونکہ مسیحی عقیدے کے مطابق یسوع مسیح کا دنیا میں آنا انسان کو نجات کی راہ دکھاتا ہے۔ اس موقع پر معاشرے،ملک،دنیا بھر کے حکمرانوں اور عوام کی خیر و عافیت کیلئے خصوصی دعائیں مانگی جائیں گی تاکہ دنیا سے جنگ نفرت دہشت گردی جھگڑے ختم ہوں اور تمام انسان خلوص پیار و محبت سے آپس میں مل جل کر رہتے ہوئے امن قائم کریں۔ کرسمس کے اس پرمسرت موقع پر سانتا کلاز کے روپ میں ایک شخص بچوں میں کھلونے اور دیگر تحائف بھی تقسیم کرتا ہے۔ نیز مسیحی اس دن کو بڑا دن یا بڑی عید بھی قرار دیتے ہیں۔کرسمس کے موقع پرلاہور سمیت صوبہ بھر میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ عبادتگاہوں میں آنے والے مسیحیوں کو جامع تلاشی کے بعد اندر داخل ہونے کی اجازت ہو گی۔پولیس کی طرف سے مسیحی عبادتگاہوں کی طرف آنے والے راستوں کی ناکہ بندی کی جائے گی جبکہ عبادتگاہوں کے اندر اور چھتوں پر بھی سکیورٹی تعینات ہو گی۔پولیس افسران سکیورٹی انتظامات چیک کرنے کے لئے پیٹرولنگ بھی کریں گے۔
Comments are closed.