بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے بدلے امریکہ میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی کوئی تجویز زیر غور نہیں، دفتر خارجہ
سفارت کاری کے لیے 2024 ایک سرگرم سال تھا، عرب ، افریقی اور یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی ، ترجمان دفتر خارجہ
اپنے عوام کی سیکورٹی کیلئے پرعزم، سیکیورٹی ادارے دہشت گرد گرو پوں کیخلاف بھر پور کارروائیاں کر رہے ہیں، ہفتہ وار پریس بریفنگ
اسلام آباد (آن لائن) دفتر خارجہ نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے بدلے امریکہ میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی کوئی تجویز زیر غور ہونے کی تردید کرتے ہوے کہا ہے کہ ایسی کسی تجویز کے حوالے سے دفتر خارجہ آگاہ نہیں ہے ، پاکستان اپنے عوام کی سیکورٹی کیلئے پرعزم ہے۔ سیکیورٹی ادارے دہشت گرد گرو پوں کیخلاف بھر پور کارروائیاں کر رہے ہیں۔ سفارت کاری کے لیے 2024 ایک سرگرم سال تھا، عرب ، افریقی اور یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی ۔ سرحد پار دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے کے لئے افغان حکام سے مثبت بات چیت جاری رہی ۔ فلسطین اور کشمیر کے ایشوز کو بھی پاکستان نے عالمی فورمز پر بھر پور انداز سے ا جاگر کیا ۔ ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا پاکستان کی سفارت کاری کے لیے 2024 ایک سرگرم سال تھا۔ بیلا روس ، چین، آبائیجان، روس ، چین، سعودی ، ترکیہ، برطانیہ اور دیگر ممالک کے ساتھ اچھی انڈ ر سٹینڈنگ بنی۔ وزیر خارجہ نے بیلجیم ، مصر، ایران، سعودی عرب، برطانیہ اور دیگر ممالک کے دورے کیے۔ وزیر اعظم اور صدر نے بھی 2024 میں مختلف ممالک کے دورے کیے، پاکستان میں ملائشیا، روس، سعودی عرب، اور دیگر ممالک کے وفد پاکستان آئے ۔ ترجمان نے کہا رواں سال خطے اور دنیا بھر میں مختلف تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ تبدیلیوں کے باوجود باہمی مفادات کے پیش نظر مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات اچھے بنائے ۔ ترجمان نے پاکستان کی جانب سے امر یکہ کے ساتھ روابط اور یورپ میں اپنے پارٹنرز کے ساتھ تعاون جاری ر کھنے کے عزم کا اعادہ کیا ۔ ترجمان نے کہا یورپی یونین نے پی آئی اے سے پابندی ہٹائی ہے۔ پاکستان پی آئی اے سے پابندی ہٹانے کے لیے یورپی یونین کے علاوٴہ دیگر ممالک کے ساتھ بھی بات چیت کررہا ہے۔ ترجمان نے کہا پاکستان اور ترکیہ نے تجارت ، سیکورٹی اور دیگر شعبوں میں تعاون پر اتفاق کیا ہے۔ پاکستان نے اسی سال ایس سی او کی بھی میزبانی کی۔ ایس سی او میں وزرائے اعظم اور دیگر اعلی عہدے داروں نے شرکت کی۔ ایس ای سی او اور ایس سی او ہمارے لئے اہمیت کے حامل ہیں۔ ترجمان نے کہا پاکستان اور افریقی ممالک کے درمیان تعلقات میں مثبت پیش رفت دیکھی جا رہی ہے۔
رواں برس افریقہ, مشرق وسطی, ایسٹ ایشیا سمیت متعدد علاقائی و عالمی سطح ہر تبدیلیاں دیکھی گئیں۔ ان تبدیلیوں میں پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کو ان کے مطابق ڈھالا۔ ترجمان نے کہا پاکستان نے اپنے قریبی شراکت داروں سے روابط کو کو بہتر بنانے کے لیے تیز رفتار خارجہ پالیسی جاری رکھی ۔ ترجمان نے چین کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے رواں سال کو اہم قرار دیتے ہوے کہا چینی وزیراعظم لی کیانگ نے اکتوبر میں پاکستان کا دورہ کیا،اور سی پیک پر خصوصی توجہ مرکوز رکھی ۔ ترجمان نے کہا وزیر اعظم نے سعودی عرب کے چار دورے کئے۔ دوروں کے دوران باہمی تعلقات, سرمایہ کاری اور تجارت کے حوالے سے بہتر اقدامات سامنے آئے۔ ترجمان نے کہا رواں سال بدقسمتی سے ایران کے ساتھ کشیدگی کے ساتھ شروع ہوا۔ تاہم فوری اور بہتر سفارت کاری سے تعلقات کو تیزی سے معمول پر لایا گیا۔ مرحوم ایرانی صدر رئیسی نے بھی پاکستان کا دورہ کیا۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات کا ذکر کرتے ہوے ترجمان نے کہا افغانستان کے ساتھ بارڈر پر مسائل رہے۔ ہم افغان حکام کے ساتھ رابطے میں رہے ۔ چاہتے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ سیکورٹی تجارت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھا ئیں ۔ ترجمان نے کہا پاکستان نے اسی سال غزہ میں نسل کشی کے خلاف آواز اٹھائی۔ پاکستان نے مختلف فورمز پر فلسطین کے لیے آواز بلند کی۔ پاکستان نے غزہ کے لیے عالمی عدالت انصاف کی سماعت میں بھی شرکت کی۔ پاکستان بھاری اکثریت سے آئندہ برس کے لئے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوا ۔ ترجمان نے غزہ میں اسرائیلی اور نسل کشی کے حوالے سے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ۔ ترجمان نے کہا پاکستان نے 2024 میں کشمیر کے لیے متعلقہ فورمز پر آواز اٹھائی۔ اور کشمیری ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ اور دیگر کی رہائی کا مطالبہ کیا ۔ ترجمان نے کہا پاکستان نے آسیان ممالک سے تعلقات بہتر بنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ 27 ستمبر کو وزیر اعظم نے یو این جنرل اسمبلی میں عالمی امن, سیکیورٹی اور باہمی منسلکی پر روشنی ڈالی ۔ ترجمان نے کہا پاکستان انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی اور یو این ڈس آرمامینٹ کا سربراہ منتخب ہوا ۔ ترجمان نے کہا بنگلہ دیش, سری لنکا اور مالدیپ کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنایا گیا۔ پاکستان بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں سیاسی جماعتوں پر پابندی کی مذمت کرتا ہے۔ ترجمان نے امریکی خصوصی ایلچی رچرڈ گرینل کے بیان پر ردعمل دیتے ہوے کہا کہ پاکستان ہمیشہ کہ امریکہ کیساتھ تعمیری تعلقات کا خواہاں رہا ہے۔
اگر کوئی انفرادی حیثیت میں بیان دے رہا ہے تو اس پر کمنٹ نہیں کرینگے۔ ترجمان نے کہا پاکستان اپنے عوام کی سیکورٹی کیلئے پرعزم ہے۔ سیکورٹی ادارے دہشت گرد گرو پوں کیخلاف کاروائی کر رہے ہیں۔ دہشت گرد عناصر بشمول طالبان کیخلاف انٹیلی جنس بیس آپریشن کیے جاتے ہیں۔ ترجمان نے امید ظاہرکی کہ افغانستان ا پنی سر زمین کو پاکستان کیخلاف استعمال ہونے سے روکے گا۔ طالبان خطہ کی سیکورٹی کیلئے خطرہ ہیں ۔ پاکستان مذاکرات اور ڈپلومیسی پر یقین رکھتا ہے۔ پاکستان کے افغانستان کے خصوصی نمائندہ صادق خان نے افغانستان نے وہاں افغان وزراء کیساتھ اور ڈپٹی افغان وزیر اعظم کیساتھ ملاقاتیں کی ہیں اور سیکورٹی باڈر مینجمنٹ اور تجارت پر بات چیت ہوئی ہے ۔ ترجمان نے کہا پاکستان کے سیکورٹی ادارے بڑے محتاط انداز کیساتھ بارڈر ایریاز پر آپریشن کرتے ہیں۔ ترجمان نے کہا پاکستان کے افغانستان کے نمائندہ خصوصی صادق خان کی افغان حکام کیساتھ تمام ایشو پر بات چیت ہوئی ہے ۔ دونوں ممالک کیلئے رابطہ و مذاکرات بڑے اہم ہیں ۔ پاکستان افغانستان کی خود مختاری کا احترام کرتا ہے۔ تاہم پاکستان کو جن دہشت گرد عناصر سے خطرہ ہے انکے ٹھکانے افغانستان میں ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لئے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں ۔ ترجمان نے کہا کہ با نی پی ٹی آئی رہائی کے بدلے عافیہ صدیقی کی رہائی کی کوئی تجویز بی زیر غور نہیں ہے ۔
Comments are closed.