حکومت کرنی ہے تو پیپلز پارٹی کے ساتھ اتفاق رائے سے فیصلے کرنا ہوں گے ، ایسے فیصلے جو وفاق کو کمزور کریں اس پر پیپلز پارٹی ضرور ردعمل دے گی
نہریں نکالنے کا فیصلہ بھی کالا باغ ڈیم کی طرح متناز فیصلہ ہے، کالاباغ ڈیم کا احتجاج سند ھ سے نہیں کے پی کے سے شروع ہوا تھا
زراعت کے بعد آئی ٹی سیکٹر ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حثیت ر کھتی ہے ہمیں اپنے آئی ٹی سیکٹر کو وہی سہولیات دینی ہوں گی جو چین اور بھارت نے دے رکھی ہیں
زراعت کے بعد آئی ٹی سیکٹر ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت ر کھتی ہے، ہمیں اپنے آئی ٹی سیکٹر کو وہی سہولیات دینی ہوں گی جو چین اور بھارت نے دے رکھی ہیں، لیکن ان کی سیاست موٹر وئے سے شروع ہو کر میٹرو پر ختم ہو جاتی ہے،پریس کانفرنس
کراچی (آن لائن) چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ن لیگ کے پاس اتنی اکثریت نہیں کہ یکطرفہ اور متنازع فیصلے کر سکے ، حکومت کرنی ہے تو پیپلز پارٹی کے ساتھ اتفاق رائے سے فیصلے کرنا ہوں گے ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے انہوں نے کہا ایسے فیصلے جو وفاق کو کمزور کریں اس پر پیپلز پارٹی ضرور ردعمل دے گی ۔ ن لیگ سمجھتی ہے کہ ان کے پاس دوتہائی اکثریت ہے اور ا نھیں فیصلوں میں ہم سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ۔ لیکن ایسا ہر گز نہیں ہے یہ یکطرفہ اور متنازع فیصلے نہیں کر سکتے ۔
اگر حکومت کرنی ہے تو پیپلز پارٹی کے ساتھ ارتفاق رائے سے فیصلے کرنے ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ نہریں نکالنے کا فیصلہ بھی کالا باغ ڈیم کی طرح متناز فیصلہ ہے، کالاباغ ڈیم کا احتجاج سند ھ سے نہیں کے پی کے سے شروع ہوا تھا ۔ ایسے فیصلے جو ملک کو کمزور کریں اس پر پیپلز پارٹی رد عمل دے گی ۔ انہوں نے کہا زراعت کے بعد آئی ٹی سیکٹر ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حثیت ر کھتی ہے ۔ ہمایں اپنے آئی ٹی سیکٹر کو وہی سہولیات دینی ہوں گی جو چین اور بھارت نے دے رکھی ہیں ۔ لیکن ان کی سیاست موٹر وئے سے شروع ہو کر میٹرو پر ختم ہو جاتی ہے ۔ ھکومت کبھی کہتی ہے کہ انٹرنیٹ سلو نہیں کبھی کہتی ہے تار کٹ گئی ۔
ایسا کیا مسئلہ ہ ہے کہ پاکستان میں انٹرنیٹ اتنا سلو ہے ۔ سمندر میں ایسی کون سی مچھلیاں ہین جو روز کیبل کھا جاتی ہیں ۔ موٹر وے ہمارا انراسٹریکچر نہیں ہماری نسل کا انفراسٹریکچر ڈیجیٹل ، انٹرنیٹ ہے تیز ترین انٹرنیٹ عوام کا بنیادی حق بنانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ سنا ہے کہ معیشت میں بہتری آ رہی ہے اگر معیشت میں بہتری آرہی ہے تو اس کے ثمرات عوام تک بھی پہنچنے چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ تیز ترین معاشی ترقی کے لئے تیز ترین انٹرنیٹ سپیڈ ضروری ہے ۔ انہوں نیکہا کہ آج اگر پاکستان محفوظ ہے تو یہ پی پی کا ٹحفہ ہے ۔ مگربی ممالک سے پاجکستان کے اندرونی معاملات پر بیانا ت آرہے ہیں آج مغربی ممالک کو ہمارا ایٹمی پروگرام یاد آگیا ہے ۔ ہمارے لئے پکاستان کے مفدات سیاسی مفادات سے بالا تر ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ عالمی ممالک پہلے اپنے آپ سے سوال کریں کہ انھین ایٹم بم بنانے کی ضرورت کیاں پڑی ۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی انکی مذمت کرے جو پاکستان کے خلاف بیان دے رہے ہیں ۔ ذاتئی سیاسی معاملات کو عامی سطح پر مداخلت نہیں بنانا چہیے تاہم بانی پی ٹی آئی کا کوئی اصول اور نظریہ نہیں ہے نھیں ملکی سیاست سے کائی سروکار نہیں ہے ۔
Comments are closed.