پابندی کا فیصلہ کشتی حادثے میں بچ جانیوالے41 افراد سے تفتیش کی بنیاد پرکیاگیا‘ذرائع
ایف آئی اے نے مبینہ طور پر ملوث 18 افسران و اہلکاروں کو ضلع بدر کر دیا
اسلام آباد(آن لائن) یونان کشتی حادثہ کے حوالے ایف آئی اے کی ابتدائی انکوائری جاری ہے اورایف آئی اے کی جانب سے مبینہ اہلکاروں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے اور اب تک کشتی حادثے کے بعد فیصل آباد سے2 ایف آئی اے اہلکاروں کو گرفتارکیا گیاہے۔ادھر ایف آئی اے نے مبینہ طور پر ملوث 18 افسران و اہلکاروں کو ضلع بدر کر دیاہے۔ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے 31 افسران کے بیرون ملک جانے پرپابندی عائد کردی ہے اورانکوائری مکمل ہونے تک ان31 ایف آئی اے افسران کو کہیں بھی تعینات نہیں کیا جائیگا۔ذرائع کے مطابق ایف آئی اے ے31 افسران یونان کشتی حادثے سے قبل مختلف ایئرپورٹس پر تعینات تھے،پابندی کا فیصلہ کشتی حادثے میں بچ جانیوالے41 افراد سے تفتیش کی بنیاد پرکیاگیا۔
ذرائع کے مطابق ایجنٹس اورجن اکاؤنٹس میں رقوم ٹرانسفرہوئیں اسٹیٹ بینک سے ان کی تفصیلات لی جائیں گی۔ذرائع کے مطابق یونان کشتی حادثہ میں بچ جانے والے لوگوں سے ایجنٹس کی تفصیلات بھی لے لی گئی ہیں۔بچ جانیوالے لڑکوں کی نشاندہی پرفیصل آبادسے3،گوجرانوالہ سے2 انسانی اسمگلرزگرفتارہوئے ہیں۔ادھر ایف آئی اے کے ملوث افسران و اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کے دوران ایف آئی اے نے مبینہ طور پر ملوث 18 افسران و اہلکاروں کو ضلع بدر کر دیاہے۔ان افسران میں 1 سب انسپکٹر اور 3 اے ایس آئی شامل ہیں۔ان افسران میں 11 ہیڈ کانسٹیبل اور 3 کانسٹیبل شامل ہیں۔ان افسران و اہلکاروں کو گجرات۔گوجرانوالہ اور سیالکوٹ میں تبدیل کیا گیا ہے۔تمام افسران و اہلکاروں کے تبادلے کا نوٹیفکیشن جاری کردیئے گئے ہیں۔
Comments are closed.