راولپنڈی (آن لائن) تحریک انصاف کے سابق چیئرمین کے لئے سال 2024 جیل کا سال رہا گزشتہ سال کے دوران سابق چیئرمین کو سائفر کیس، عدت کیس اور توشہ خانہ کے پہلے ریفرنس میں سزائیں سنائی گئیں جبکہ القادر ٹرسٹ ریفرنس اور توشہ خانہ 2 کیس کے علاوہ جی ایچ کیو حملہ کیس سمیت 9 مئی اور 26 نومبر کے مقدمات عدالتوں میں زیر التوا ہیں مجموعی طور پر ان مقدمات میں مطلوب ہونے کے باعث گزشتہ سال 5 اگست کو سابق چیئرمین کو لاہور زمان پارک سے گرفتاری کے بعد اٹک جیل منتقل کیا گیا لیکن 2 ماہ بعد ہی 26 ستمبر کو انہیں اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا ان کے خلاف ایف آئی اے نے سائفر کیس، نیب نے توشہ خانہ اور 190 ملین پاوٴنڈ کے مالیاتی سکینڈل پر مبنی القادر ٹرسٹ ریفرنس دائر کئے جبکہ سابق چیئرمین اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف دوران عدت نکاح کیس کا ٹرائل بھی اڈیالہ جیل میں شروع ہوا راولپنڈی پولیس نے سابق چیئرمین کے خلاف 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کا چالان انسداد دہشت گردی عدالت میں جمع کرایا گزشتہ سال 30 جنوری کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے سائفر کیس میں ٹرائل مکمل ہونے پر سابق چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو 10/10 سال کی سزائیں سنائیں 31 جنوری کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سابق چیئرمین اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 14/14 سال کی سزا سنائی جبکہ گزشتہ سال 3 جنوری کو سینئر سول جج اسلام آباد قدرت اللہ نے دوران عدت نکاح کیس میں سابق چیئرمین اور بشریٰ بی بی کو 7/7 سال قید اور 5 لاکھ روپے فی کس جرمانے کی سزا سنائی اسی طرح 190 ملین پاوٴنڈ کے مالیاتی سکینڈل پر مبنی ریفرنس میں احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے ٹرائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر رکھا ہے جو نئے سال 6 جنوری کو اڈیالہ جیل میں سنائے جانے کا امکان ہے جبکہ سابق چیئرمین کے خلاف 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس اور توشہ خانہ ٹو کیس کا جیل ٹرائل ابھی جاری ہے یہ بھی یاد رہے کہ سائفر کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق چیئرمین اور شاہ محمود قریشی کی سزا کالعدم قرار دے کر بری کردیا تھا جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے دوران عدت نکاح کیس میں ماتحت عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر سابق چیئرمین اور بشریٰ بی بی کو بری کرنے کے ساتھ توشہ خانہ کیس کی سزا بھی معطل کردی تھی جس میں سابق چیئرمین کی اپیل زیر سماعت ہے اس طرح سابق چیئرمین مجموعی طور پر ڈیڑھ سال کا عرصہ جیل میں گزار چکے ہیں، اس دوران ان کی سیاست کا محور حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر کڑی تنقید کے ساتھ مذاکرات اور سانحہ 9 مئی پر جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ رہا تاہم متعدد کوششوں کے باجود ان کی اسٹیبلشمنٹ سے بات بن نہ پائی اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی نے نہ صرف پارٹی میں گروپنگ تسلیم کی بلکہ 9 مئی سے قبل جی ایچ کیو کے سامنے پر امن احتجاجی کال کا اعتراف بھی کیا۔
Comments are closed.