سلامتی کونسل میں پاکستان کی غیرمستقل رکنیت باعث اعزاز ہے، اسحاق ڈار

اسلام آباد (آن لائن) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے سلامتی کونسل کی غیرمستقل رکنیت کو پاکستان کے لیے ایک اعزاز قرار دیتے ہوے کہا ہے کہ ہم اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کے لیے پرعزم ہیں، عالمی امن اور سیکیورٹی کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رئیں گے ۔ سلامتی کونسل میں پاکستان کی بطور غیرمستقل رکنیت کے آغاز کے موقع پر وفاقی دار لحکومت میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں سفیروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی رکنیت پر اقوام متحدہ کے رکن ممالک کا شکرگزار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک ایسے وقت میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے جب دنیا کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے، کشمیر کا مسئلہ ہو یا غزہ میں انسانی حقوق سنگین صورتحال اور وہاں پر جاری نسل کشی جاری ہے

، یہ تمام مسائل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ساکھ پر ایک سوالیہ نشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہلک ہتھیاروں کے کنٹرول سے متعلق معاہدوں کی پاسداری نہیں کی جارہی جس کی وجہ سے دنیا میں جوہری اور روایتی ہتھیاروں کی دوڑ میں اضافہ ہوا ہے، دہشتگرد تنظیموں کی جانب سے عالمی امن و سلامتی کو مسلسل خطرات درپیش ہیں، اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج پرامن بقائے باہمی کی شق کو بڑھتی ہوئی عدم برداشت، اسلاموفوبیا، شدت پسندی اور مقبولیت کے گراف کے ذریعے چیلینج کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے سنگین اور پیچیدہ مسائل کو حل کرنا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی بنیادی ذمہ داری ہے، گزشتہ برسوں میں ہم نے بامقصد نتائج کے حصول کی جانب بڑھنے اور سلامتی کونسل کو موٴثر بنانے میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ 04-2003 میں سلامتی کونسل میں اپنی مدت کے دوران پاکستان نے منتخب کردہ 10 گروپس کے لیے گراوٴنڈ ورک مکمل کیا اور منتخب ارکان کی اجتماعی آواز کو بلند کیا۔ انہوں نے کہا کہ 13-2012 میں پاکستان نے سلامتی کونسل کے رکن کے طور پر انسداد دہشتگردی اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے ایک قرارداد پیش کی جو منظور کی گئی، ا?ج جب دنیا ایک دوراہے پر کھڑی ہے، پاکستان سلامتی کونسل میں یو این چارٹر کے مطابق بامقصد سفارتکاری کے ذریعے اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

Comments are closed.